11سالہ بچے کے قتل کا جرم ثابت،عدالت کا بڑا فیصلہ. دیور اور بھابھی کو سزائے موت، 5،5 لاکھ روپے جرمانہ
11 سالہ بچے حسیب کے قتل کے مقدمہ کا فیصلہ سنا دیا گیا، ایڈیشنل سیشن جج دیپالپور ریاض افضل چھینہ کی عدالت نے جرم ثابت ہونے پر دیور اور بھابھی کو سزائے موت اور پانچ، پانچ لاکھ روپے جرمانے کی سزا کا حکم دے دیا۔
چک نمبر 39 فور ایل کے رہائشی پاکستان رینجرز کے ملازم قمر ریاض کے بچے تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے اپنے ننھیال دیپالپور میں مقیم تھے۔ مقتول 11 سالہ حسیب نے اپنے ننھیالی رشتہ دار عثمان اور اس کی بھابھی اقراء کو مبینہ طور پر قابل اعتراض حالت میں دیکھ لیا تھا، جس کے باعث دونوں کو خدشہ تھا کہ ان کا راز فاش ہو جائے گا۔ ملزمان نے مبینہ طور پر موقع پا کر حسیب کو قتل کیا اور اس کے گلے میں پھندا ڈال کر واقعہ کو خودکشی کا رنگ دینے کی کوشش کی۔ پولیس تھانہ سٹی دیپالپور نے واقعہ کی تفتیش کرتے ہوئے عثمان اور اقراء کو شامل تفتیش کیا، جس کے دوران شواہد اور تحقیقات کی روشنی میں قتل کا معاملہ سامنے آگیا۔شواہد سے جرم ثابت ہونے پر عدالت نے دونوں ملزمان عثمان اور اقراء کو سزائے موت اور پانچ، پانچ لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنا دی۔