آئی سی سی کے قانون پر نئی بحث: گرنے والے تولیے نے زمبابوین بیٹر کو آؤٹ ہونے سے کیسے بچایا؟
کرکٹ میں بعض اوقات ایک معمولی سا واقعہ بھی امپائر کے فیصلے اور کھیل کے قوانین پر بحث چھیڑ دیتا ہے۔ افغانستان اور زمبابوے کے درمیان ون ڈے میچ میں بھی ایسا ہی ہوا، بولر کا تولیہ گرنے پر امپائر نے ڈیڈ بال قرار دے دی اور بظاہر آؤٹ ہونے والے زمبابوے کے بیٹر برائن بینیٹ کو دوبارہ کھیلنے کا موقع مل گیا۔
یہ واقعہ افغانستان، زمبابوے اور ایک تیسری ٹیم پر مشتمل ون ڈے سہ ملکی سیریز کے میچ میں پیش آیا، جو زاید کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلا گیا۔ امپائر احسن رضا کے اس فیصلے نے کمنٹیٹرز کے درمیان بحث چھیڑ دی کہ آیا بیٹر کی توجہ متاثر ہونے کی صورت میں ڈیڈ بال قرار دینا درست تھا یا اسے شاٹ کھیلنے کے بجائے کریز سے ہٹ جانا چاہیے تھا۔زمبابوے کی اننگز کے آٹھویں اوور میں افغانستان کے آل راؤنڈر عظمت اللہ عمرزئی نے برائن بینیٹ کو گیند کرائی۔ گیند سیدھی وکٹوں سے ٹکرائی، جس سے بظاہر بینیٹ آؤٹ ہوگئے تھے۔ تاہم، بینیٹ نے امپائر کی توجہ اس جانب دلائی کہ گیند کرانے سے کچھ لمحے پہلے بولر کا تولیہ گر گیا تھا۔زمبابوے کے کپتان سکندر رضا نے بھی اس معاملے پر امپائر سے بات کی۔ بظاہر لیگ امپائر فاروق خان سے مشاورت کے بعد احسن رضا نے گیند کو ڈیڈ بال قرار دے دیا، جس کے نتیجے میں بینیٹ کو آؤٹ قرار نہیں دیا گیا اور انہیں دوبارہ بیٹنگ کا موقع مل گیا۔
اس فیصلے کے بعد کرکٹ مبصرین میں اختلاف سامنے آیا۔ بعض کا خیال تھا کہ بینیٹ کو تولیہ گرتے دیکھ کر شاٹ کھیلنے کے بجائے ایک طرف ہٹ جانا چاہیے تھا، جبکہ دوسرے مبصرین کے مطابق بولر کے رن اپ کے دوران اچانک تولیہ گرنے سے بیٹر کی توجہ اور گیند دیکھنے کی صلاحیت متاثر ہوسکتی تھی۔
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے مینز ون ڈے انٹرنیشنل کے قواعد کی شق 20.4.2.6 کے مطابق، اگر بیٹر گیند کا سامنا کرنے کی تیاری کے دوران یا گیند کھیلتے وقت شور، حرکت یا کسی دوسرے سبب سے پریشان ہو اور اس کی توجہ متاثر ہو، تو امپائر ڈیڈ بال قرار دے سکتا ہے۔اس قانون کے تحت توجہ متاثر ہونے کی وجہ میدان کے اندر یا باہر سے پیدا ہونے والا کوئی بھی واقعہ ہو سکتا ہے۔ تاہم، اس کا مطلب یہ نہیں کہ بولر کی کوئی چیز گرنے پر ہر صورت میں ڈیڈ بال قرار دے دی جائے گی۔ امپائر کو حالات کا جائزہ لے کر یہ طے کرنا ہوتا ہے کہ آیا اس واقعے نے بیٹر کو قانون میں بیان کردہ انداز میں متاثر کیا تھا یا نہیں۔
بینیٹ کے معاملے میں بنیادی سوال یہی تھا کہ عمرزئی کا تولیہ کس وقت گرا اور کیا اس اچانک حرکت نے گیند کا سامنا کرنے سے عین پہلے بیٹر کی توجہ متاثر کی تھی؟
ایک مبصر نے امپائر کے فیصلے پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ بینیٹ نے شاٹ کھیلنے کی کوشش کی، گیند سے وکٹیں بکھر گئیں اور اس کے بعد انہوں نے تولیہ گرنے کا معاملہ اٹھایا۔ اس کے برعکس، فیصلے کی حمایت کرنے والے مبصرین کا مؤقف تھا کہ تولیے کی اچانک حرکت بیٹر کی نظر اور توجہ پر اثر ڈال سکتی تھی، اس لیے امپائر کی مداخلت کو مکمل طور پر غلط قرار نہیں دیا جاسکتا۔یوں یہ واقعہ صرف تولیہ گرنے تک محدود نہیں رہا، بلکہ اس نے اس بات پر بحث کو جنم دیا کہ کھیل کے دوران کسی غیر متوقع حرکت سے بیٹر کی توجہ متاثر ہونے کی صورت میں امپائر کو کس بنیاد پر فیصلہ کرنا چاہیے۔
ڈیڈ بال کے فیصلے سے برائن بینیٹ کو وقتی طور پر فائدہ ضرور ہوا، لیکن وہ اس موقع سے زیادہ دیر فائدہ نہ اٹھا سکے۔ وہ زمبابوے کی اننگز کے 13ویں اوور میں 40 گیندوں پر 31 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئے۔افغانستان نے زمبابوے کو جیت کے لیے 296 رنز کا ہدف دیا تھا، لیکن زمبابوے کی پوری ٹیم 136 رنز پر آؤٹ ہوگئی۔ اس طرح افغانستان نے 158 رنز سے کامیابی حاصل کی، جبکہ زمبابوے ون ڈے سہ ملکی سیریز کے پوائنٹس ٹیبل پر دوسرے نمبر پر چلا گیا۔اگرچہ تولیہ گرنے کے واقعے اور ڈیڈ بال کے فیصلے نے کرکٹ حلقوں میں بحث کو جنم دیا، لیکن میچ کے مجموعی نتیجے پر اس کا کوئی بڑا اثر نہیں پڑا۔