مبینہ زیادتی کیس: متاثرہ خاتون کا آذربائیجان واپس جانے سے انکار، پاکستان میں کیس لڑنے کا فیصلہ
لاہور میں آذربائیجان سے تعلق رکھنے والی 20 سالہ خاتون کے مبینہ اجتماعی زیادتی کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ متاثرہ خاتون وطن واپسی کے لیے لاہور ایئرپورٹ پہنچی، چیک اِن اور امیگریشن کا عمل مکمل کرنے کے بعد طیارے میں بھی سوار ہوگئی، تاہم آخری لمحات میں پاکستان واپس رہنے اور مقدمے کی پیروی کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے جہاز سے اتر آئی۔متاثرہ خاتون کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان میں رہ کر انصاف حاصل کرنا چاہتی ہے اور مقدمے کی مکمل پیروی کرے گی۔
لاہور پولیس نے مبینہ اجتماعی زیادتی کے مقدمے میں ایک ملزم کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ ڈی آئی جی انویسٹی گیشنز کے مطابق ایک شخص کو گرفتار کرلیا گیا ہے جبکہ متاثرہ خاتون کا طبی معائنہ بھی کرایا گیا ہے۔مقدمے میں نامزد دیگر دو نامعلوم ملزمان کی گرفتاری کے لیے خصوصی ٹیمیں مختلف مقامات پر کارروائیاں کر رہی ہیں۔متاثرہ خاتون نے مجاز عدالت کے سامنے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت اپنا بیان بھی ریکارڈ کرایا ہے۔عدالتی بیان کے مطابق خاتون 13 ستمبر کو استنبول سے پاکستان پہنچی تھیں۔ اسلام آباد اور فیصل آباد کے بعد وہ سکردو جانے کے لیے لاہور آئیں۔ چونکہ وہ اکیلی سفر کر رہی تھیں، اس لیے انہوں نے سفر میں سہولت کے لیے دو مقامی خواتین سے رابطہ کیا۔
خاتون کے مطابق 25 ستمبر کی رات وہ ان خواتین میں سے ایک سے ایک کیفے میں ملیں، جس کے بعد وہ بحریہ ٹاؤن گئیں۔ ان کے بقول رات تقریباً 2 بجے ایک سفید رنگ کی گاڑی وہاں پہنچی، جس میں دو افراد سوار تھے۔ وہ ایک اپارٹمنٹ گئے جہاں کھانا کھانے کے دوران مزید دو افراد وہاں آگئے۔متاثرہ خاتون نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ ان خواتین میں سے ایک نے دونوں افراد میں سے ایک سے رقم لی اور بتایا کہ یہ پارٹی کے اخراجات کے لیے ہے۔خاتون کے مطابق اس نے رقم اور شراب لینے سے انکار کیا، جس کے بعد ایک شخص نے اسے چھونے کی کوشش کی اور ایک الگ کمرے میں بند کردیا۔خاتون کے مطابق جب اس نے دونوں خواتین کے بارے میں پوچھا تو اسے بتایا گیا کہ وہ جاچکی ہیں۔ اس نے جانے کی اجازت مانگی تو مبینہ طور پر اسے کہا گیا کہ وہ نہیں جاسکتی کیونکہ اس کی دوست رقم لے کر چلی گئی ہے۔
متاثرہ خاتون کا دعویٰ ہے کہ اس نے 30 ہزار روپے دینے کی پیشکش بھی کی، تاہم ایک شخص نے اسے دھمکی دی اور بلیک میل کیا۔ خاتون کے مطابق ملزمان نے اس پر شراب پینے کے لیے دباؤ ڈالا اور بعد ازاں دونوں افراد نے مبینہ طور پر اسے زیادتی کا نشانہ بنایا۔متاثرہ خاتون کے مطابق ملزمان بعد میں اسے گاڑی میں بٹھا کر غازی انٹرچینج کے قریب لے گئے اور وہاں گاڑی سے اتار دیا۔خاتون کا دعویٰ ہے کہ ملزمان اس کا بیگ، 2 لاکھ روپے نقد، آئی فون 13 پرو میکس اور ریڈمی موبائل فون بھی لے گئے اور پولیس سے رابطہ کرنے پر سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں۔
بعد ازاں خاتون نے ایک راہگیر کی مدد سے پولیس سے رابطہ کیا اور تھانہ ڈیفنس سی میں مقدمہ درج کرایا۔ ایف آئی آر کے مطابق ملزمان نے مبینہ طور پر شراب میں بے ہوشی کی دوا ملا کر خاتون کو پلائی اور باری باری زیادتی کی۔پولیس نے مقدمہ پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 375-A کے تحت درج کیا ہے، جبکہ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزم سے تفتیش جاری ہے جبکہ دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔