مصری ٹی وی میزبان سارہ خلیفہ سمیت 12 افراد کو منشیات کیس میں سزائے موت
مصر کی ایک ٹی وی میزبان سارہ خلیفہ اور 11 دیگر افراد کو منشیات سے متعلق الزامات میں مجرم قرار دیے جانے کے بعد پھانسی دے کر سزائے موت سنائی گئی ہے۔ یہ افراد ایک ایسے جرائم پیشہ گروہ کا حصہ تھے جو منشیات کی تیاری میں استعمال ہونے والا خام مال اس مقصد سے درآمد کرتا تھا کہ اس سے منشیات تیار کرکے فروخت کی جائیں۔ ان کے قبضے سے غیر قانونی اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا تھا۔39 سالہ سارہ خلیفہ اپنے ٹی وی پروگرام ’مشن امپاسیبل‘ کے لیے مشہور ہیں، جس میں جرائم سے متعلق موضوعات پر گفتگو کی جاتی تھی۔ انھوں نے اپنے خلاف عائد الزامات کی تردید کی ہے۔
عدالت کا فیصلہ، جس کے خلاف اپیل کی جا سکتی ہے، ابتدائی طور پر گزشتہ ماہ سنایا گیا تھا۔ تاہم اس کی باضابطہ توثیق ایک ماہ بعد کی گئی، جب عدالت نے مصر کے گرینڈ مفتی سے مذہبی رائے حاصل کر لی۔ سزائے موت کے مقدمات میں یہ ایک قانونی تقاضا ہے۔مقدمے کی سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ حکام نے 750 کلوگرام سے زیادہ منشیات اور منشیات تیار کرنے کے لیے درآمد کیا گیا خام مال ضبط کیا تھا۔ 20 گواہوں نے استغاثہ کے سامنے بیانات بھی ریکارڈ کرائے، جبکہ الیکٹرانک شواہد میں گفتگو اور ویڈیو کلپس بھی شامل تھے۔
گزشتہ ستمبر میں عدالت میں پیشی کے دوران جج کی جانب سے مبینہ طور پر اپنے کردار کے بارے میں پوچھے جانے پر سارہ خلیفہ نے کہا تھا کہ انھوں نے منشیات اس وقت تک کبھی نہیں دیکھی تھیں جب تک انسدادِ منشیات ادارے کے دفاتر میں ان کی منشیات کے ساتھ تصویر نہیں بنائی گئی۔