ٹرمپ کی ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک کو دھمکیاں، تیل کی قیمتوں میں اضافہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک، کمپنیوں اور مالیاتی اداروں کو بھی سخت اقتصادی نتائج کی دھمکی دی ہے جس کی وجہ سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا ہے ۔
ٹرمپ نے کہا ہے کہ جو بھی ملک ایران کو معاشی سہارا فراہم کرے گا، اسے بھی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ٹرمپ کی دھمکی کے فوراً بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ رائٹرز کے مطابق برینٹ اور امریکی خام تیل دونوں کی قیمتیں مسلسل چھٹے روز بڑھیں، جبکہ ہفتہ وار بنیاد پر برینٹ میں 6 فیصد سے زیادہ اور امریکی خام تیل میں 5 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا۔اس کی بڑی وجہ یہ خدشہ ہے کہ نئی امریکی پابندیاں ایران کی تیل برآمدات کو مزید محدود کر سکتی ہیں۔ ایران پہلے ہی امریکی بحری ناکہ بندی اور آبنائے ہرمز میں شدید رکاوٹوں کا سامنا کر رہا ہے، جس سے عالمی سپلائی پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔
ایران کے اہم تجارتی شراکت داروں میں چین سب سے نمایاں ہے۔ چین نے 2025 میں ایران سے تقریباً 13 لاکھ 80 ہزار بیرل یومیہ تیل درآمد کیا تھا، اس لیے نئی امریکی پابندیاں بیجنگ کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہیں۔ترکی، عراق، عمان، پاکستان اور بھارت بھی ایران کے اہم تجارتی شراکت داروں میں شامل ہیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ نئی پابندیوں کی مکمل تفصیلات پیر کو سامنے لائی جائیں گی۔ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے انہیں ایران کے خلاف تاریخ کی سخت ترین مالی پابندیوں میں شمار کیا ہے۔
Leave A Comment