تازہ ترین

لاہور میں غیرملکی خواتین کے اغواء کے معاملے پرڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران کو پریس کانفرنس کے دوران صحافیوں نے آڑے ہاتھوں  لے لیا۔ صحافی کے سوال ’’لڑکی کے والد نے 15پر کال  کرکے اغوا ءکی اطلاع دی،اسی دوران لڑکی کے باپ اور ملزمان کی جو بھی بات چیت چل رہی تھی ،آپ جو پریس ریلیز بھیجتے ہیں آپ کہتے ہیں کہ پولیس نے لڑکیوں کو بازیاب کرایا‘‘دوسراغازی روڈ پر جب ان کی گاڑی کی ٹکر ہوتی ہے تو اس دوران جن میاں بیوی  کی گاڑی سے ٹکر ہوتی ہے 15پر کال وہ کرتے ہیں ،پولیس ان کی کال پر جاتی ہے،کیا پولیس کو علم نہیں تھا کہ یہ وہ خواتین ہیں جو اغواء ہوئی ہیں، مجسٹریٹ کے گھر آپ کے ایس ایچ او نے جو ریڈ کیا،وہ مجسٹریٹ کے گھر جا کر پریشر ڈالتا رہا  ہے کہ ڈی آئی جی آپریشنز سے بات کریں،کیا آپ نے کہاکہ بات کریں کیا آپ کی فون کال اس نے ہولڈ کرائی،آپ سب کچھ سنتے رہے،آپ نے اس کے باوجود اپنے ایس ایچ او سے نہیں کہا کہ انہیں قدموں پر واپس آجاؤ۔صحافی کے سوال ’’جب وکیل کسی جج کے دفتر پر حملہ کرتے ہیں آپ7اے ٹی لگاتے ہیں کیا اس پر بھی 7اے ٹی نہیں لگنی چاہئے۔‘‘

 

 

فیصل کامران نے کہاکہ میں نے بڑی تفصیل سے پریس کانفرنس میں اس کا جواب دیا،پہلی کال سیف سٹی پر آئی ، سیف سٹی کال کے ایکشن کے بعد یہ ہوا، اس کے بعدوہ لوگ گھر سےتتربترہوئے،اس کی وجہ سے وہ گاڑی وہاں سے نکلی،اس کال کا ٹائم چیک کرلیں،7بج کر 18منٹ کی کال سے پہلے اے ایس پی کی وہاں موجودگی ہے، اے ایس پی کا لڑکی سے رابطہ ہے،یہ چیپٹرتوکلوز ہو جاتا ہے،ہم لائیو لوکیشن اور ٹھوس ثبوت آپ کے سامنے رکھ سکتے ہیں کیونکہ وہ قیاس آرائی تھی جس کو پوری سٹوری نہیں پتہ تھی اس نے وہاں سے سٹوری شروع کی۔

Leave A Comment

Advertisement