تازہ ترین

چیف ٹریفک آفیسر لاہور سید عبدالرحیم شیرازی نے کہا ہے کہ ٹریفک حادثات کی روک تھام اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے سخت قانونی اقدامات جاری ہیں، جان لیوا حادثے کی صورت میں ڈرائیور کے لائسنس کے ساتھ گاڑی کا روٹ پرمٹ بھی معطل کیا جائے گا۔ ہیوی، کمرشل اور پبلک سروس گاڑیاں مجموعی ٹریفک کا صرف 4 فیصد ہیں، لیکن حادثات میں ان کا تناسب 44 فیصد ہے۔ رواں سال جان لیوا حادثات میں ملوث 177 ڈرائیورز کے لائسنس معطل کیے جا چکے ہیں، جبکہ ایسے حادثات میں ملوث 97 پبلک سروس گاڑیوں کے روٹ پرمٹ معطل کرنے کے لیے متعلقہ حکام کو مراسلے بھجوا دیے گئے ہیں۔
 ہر مہلک اور شدید غیر مہلک حادثے کی صورت میں ڈرائیور کا لائسنس معطل کیا جائے گا۔ لائسنس کے ساتھ روٹ پرمٹ کی معطلی کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ متعلقہ گاڑی کوئی دوسرا ڈرائیور بھی نہ چلا سکے۔ جان لیوا حادثات کے ذمہ دار ڈرائیورز کو لائسنس کی معطلی کے علاوہ قانونی کارروائی کا بھی سامنا کرنا ہوگا، تاہم لائسنس کی معطلی عدالتی احکامات سے مشروط ہوگی۔معطل شدہ لائسنس کے باوجود دوبارہ ڈرائیونگ کرنے والوں کے خلاف مقدمہ درج کیا جا سکتا ہے، جبکہ غیر ذمہ دارانہ ڈرائیونگ پر لائسنس کم از کم چھ ماہ سے تین سال تک معطل رہے گا۔


سی ٹی او لاہور نے انتہائی خطرناک حد تک سموگ کا باعث بننے والی گاڑیوں کے ڈرائیورز کے لائسنس معطل کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ غیر ذمہ دارانہ ڈرائیونگ کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور حادثات کے سدباب کے لیے زیرو ٹالرنس پالیسی اپنانا ہوگی۔ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ اولین ترجیح ہے۔ حادثات کی روک تھام اور محفوظ سفر یقینی بنانے کے لیے سخت قانونی اقدامات جاری رہیں گے، جبکہ ٹریفک قوانین کی پابندی ہی حادثات میں کمی اور محفوظ لاہور کی ضمانت ہے۔

Leave A Comment

Advertisement