مکہ دفاعی معاہدے کا مقصد دفاع ہے، جنگ نہیں، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ ہر مشکل وقت میں کھڑا رہے گا، محسن نقوی
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے واضح کیا ہے کہ مکہ معاہدے کا مقصد دفاع ہے جنگ نہیں،ایران اورامریکا کے درمیان امن کی کوششیں جاری رکھیں گے۔ دوحہ میں قطر سکیورٹی فورم سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان مکہ دفاعی معاہدے کے تحت خطے میں امن کا خواہاں ہے۔اس معاہدے کا مقصد دفاع ہے،جنگ نہیں۔ پاکستان سعودی عرب کیساتھ ہرمشکل وقت میں کھڑا رہے گا، خطےمیں امن کیلئے جدوجہد جاری رکھیں گے۔پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن کے قیام کی کوشش کی ہے، پاکستان خود دہشت گردی کا شکار ملک ہے، ہم نے برسوں دہشتگردی کےخلاف کارروائیاں کی ہیں۔مذاکرات میں بھروسہ سب سے ضروری ہے، پاکستان ایران اورامریکا کے درمیان امن کی کوششیں جاری رکھے گا،پاکستان نے خطے میں امن مذاکرات میں اہم کردار ادا کیا ہے۔حالیہ علاقائی تنازعات سے تین اہم سبق ملتے ہیں: بات چیت کے دروازے کبھی بند نہیں کرنے چاہییں، مذاکرات کے لیے اعتماد ضروری ہے اور پائیدار امن کے لیے تمام متعلقہ فریقوں کی مخلصانہ کوششیں ناگزیر ہیں۔بات چیت کے دروازے کبھی بند نہ کریں۔ کسی بھی قسم کی بات چیت کے لیے اعتماد سب سے اہم چیز ہے اور امن کے لیے سب کی مخلصانہ کوششیں ضروری ہیں۔
وزیر داخلہ نے علاقائی استحکام کو دہشت گردی کے خلاف جنگ سے بھی جوڑتے ہوئے بین الاقوامی تعاون مضبوط بنانے، انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے کو بہتر بنانے اور مشترکہ اقدامات پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی سب کی مشترکہ دشمن ہے۔ ہمیں اس کے خاتمے کے لیے زیادہ مضبوط تعاون، انٹیلی جنس معلومات کا بہتر تبادلہ اور مشترکہ کوششیں درکار ہیں۔پاکستان خود بھی دہشت گردی سے بھاری نقصان اٹھا چکا ہے اور گزشتہ برسوں کے دوران ہزاروں شہری، فوجی اور پولیس اہلکار اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔
انہوں نے اقوام متحدہ کے امن مشنز میں پاکستان کے کردار کو بھی اجاگر کیا اور کہا کہ پاکستانی فوجی اور پولیس اہلکار کئی دہائیوں سے تنازعات سے متاثرہ ممالک میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان کا مقصد شہریوں کا تحفظ، مقامی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی معاونت اور استحکام کی بحالی میں مدد دینا ہے۔ پاکستان کا نقطۂ نظر انفرادی تنازعات ختم کرانے میں کردار ادا کرنے پر پذیرائی حاصل کرنے تک محدود نہیں بلکہ اس کی توجہ اس بات پر ہے کہ اختلافات جنگ کی شکل اختیار کرنے سے پہلے ہی بات چیت اور تعاون کا سلسلہ برقرار رکھا جائے۔مقصد صرف جنگ شروع ہونے کے بعد اسے رکوانے کا کریڈٹ لینا نہیں بلکہ ایسے مستقبل کے لیے کوشش کرنا ہے جہاں جنگوں کو سرے سے ہونے ہی نہ دیا جائے۔