امریکا: ٹینیسی میں 200 سال بعد کسی خاتون کو سزائے موت دینے کا فیصلہ
امریکا کی ریاست ٹینیسی میں 200 سال میں پہلی مرتبہ کسی خاتون کو سزائے موت دی جائے گی۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق جنوری 1995ء میں کرسٹا پائیک نامی خاتون نے 18 سال کی عمر میں اپنے 17 سالہ بوائے فرینڈ اور ایک تیسرے ساتھی کے ساتھ مل کر 19 سالہ لڑکی کو قتل کر دیا تھا۔ خاتون اور اس کے بوائے فرینڈ نے قتل کا اعتراف کیا تھا جس کے بعد دونوں کو اگلے سال ہی مجرم قرار دے دیا گیا تھا، خاتون کو سزائے موت سنائی گئی تھی جبکہ دوسرے مجرم کو عمر قید کی سزا دی گئی تھی۔
قتل کی مجرم خاتون کرسٹا پائیک کی عمر اب 50 سال ہے اور انہیں عدالتی فیصلے کے بعد زہریلے انجیکشن کے ذریعے سزائے موت دی جائے گی۔اگرایسا ہوتا ہے تو وہ اس ریاست میں گزشتہ 200 سال سے زائد عرصے میں سزائے موت پانے والی پہلی خاتون ہوں گی۔ خاتون مجرم اگست 2001ء میں ایک اور قیدی پر جان لیوا حملے کی کوشش کی بھی مجرم قرار پائی گئی تھیں۔امریکی ریاست ٹینیسی کے گورنر بل لی بھی خاتون مجرم کی رحم کی اپیل کو مسترد کر چکے ہیں جس میں ان کے بچپن کے صدمات اور جنسی استحصال کا ذکر کیا گیا تھا۔