پی ایم اے، 30 ستمبر کو ملک بھر کے نجی ہسپتال اور کلینک بند
پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے ایف بی آر کے مبینہ جارحانہ اور توہین آمیز رویے، پوائنٹ آف سیل نظام کے نفاذ اور دفعہ 175 (سی) کے تحت کارروائیوں کے خلاف بڑا احتجاجی فیصلہ کرتے ہوئے 30 ستمبر بروز بدھ ملک بھر کے تمام نجی کلینک اور ہسپتال بند رکھنے کا اعلان کر دیا۔ پی ایم اے سنٹر کے جنرل سیکریٹری کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق ملک بھر میں نجی طبی ادارے احتجاجاً بند رکھے جائیں گے، جبکہ پی ایم اے پنجاب کی تمام ضلعی شاخوں اور صوبائی کونسلرز نے بھی اس فیصلے پر من و عن عمل کرنے کا اعلان کیا ہے۔
پی ایم اے پنجاب نے صوبے بھر کے ضلعی صدور اور جنرل سیکریٹریز کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے اپنے اضلاع میں نجی کلینکوں اور ہسپتالوں کے علاوہ طبی شعبے سے وابستہ افراد اور سول سوسائٹی کے نمائندوں سے رابطہ کرکے ایف بی آر کی کارروائیوں کے خلاف احتجاج میں شرکت کی اپیل کریں۔پی ایم اے کا کہنا ہے کہ پوائنٹ آف سیل نظام کے نفاذ اور ایف بی آر کے موجودہ طرزِ عمل سے نہ صرف ڈاکٹرز اور طبی اداروں کے لیے مزید پیچیدگیاں پیدا ہونے کا خدشہ ہے بلکہ اس کا مالی بوجھ بالآخر مریضوں کو برداشت کرنا پڑ سکتا ہے۔پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ملک میں پہلے ہی صحت کا شعبہ شدید مشکلات سے دوچار ہے، ایسے حالات میں طبی شعبے پر مزید مالی اور انتظامی بوجھ ڈالنے سے مسائل میں اضافہ ہوگا۔
پی ایم اے نے واضح کیا ہے کہ 30 ستمبر کی علامتی بندش کے بعد بھی احتجاجی لائحہ عمل ختم نہیں ہوگا بلکہ آئندہ کی حکمت عملی طے کرنے کے لیے 11 اکتوبر کو گجرات میں پی ایم اے پنجاب کا بڑا کنونشن منعقد کیا جائے گا۔کنونشن میں پنجاب بھر کے اضلاع کی قیادت جبکہ دیگر صوبوں سے بھی پی ایم اے کے نمائندے شرکت کریں گے، جہاں ایف بی آر کے اقدامات کے خلاف آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔
پی ایم اے پنجاب کے صدر نے وزیراعظم پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ معاملے کا فوری نوٹس لیں اور ملک کی موجودہ صحت کی صورتحال کے پیش نظر ایف بی آر کو ایسے اقدامات سے روکیں جن سے ڈاکٹرز، نجی طبی اداروں اور بالخصوص مریضوں کے لیے مزید مشکلات پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔