تازہ ترین

بھارت میں E20 پیٹرول کے ملک گیر نفاذ سے متعلق خدشات کے باعث صارفین کی بڑی تعداد متبادل ایندھن سے چلنے والی گاڑیوں، خصوصاً سی این جی، ہائبرڈ اور الیکٹرک گاڑیوں کی جانب متوجہ ہونے لگی ہے۔فیڈریشن آف آٹوموبائل ڈیلرز ایسوسی ایشن (FADA) کا کہنا ہے کہ جولائی 2026 کے دوران متبادل ایندھن سے چلنے والی مسافر گاڑیوں کی فروخت مجموعی مارکیٹ کا 40.59 فیصد رہی، جو پیٹرول گاڑیوں کے 41.68 فیصد حصے سے محض 1.09 فیصد کم ہے۔رپورٹ کے مطابق بھارت نے حال ہی میں E10 کی جگہ E20 پیٹرول متعارف کرایا ہے، جس میں 20 فیصد ایتھانول شامل کیا جاتا ہے تاکہ درآمدی خام تیل پر انحصار کم کیا جا سکے۔ تاہم بعض صارفین کو خدشہ ہے کہ زیادہ ایتھانول پر مشتمل ایندھن خصوصاً پرانی گاڑیوں کی کارکردگی اور فیول ایوریج کو متاثر کر سکتا ہے۔

FADA کے نائب صدر  کے مطابق ڈیلرز کو صارفین کی جانب سے E20 سے متعلق سوالات تو موصول ہو رہے ہیں، تاہم ہزاروں گاڑیوں کی سروسنگ کے باوجود ایندھن کی وجہ سے کسی خرابی کی باقاعدہ شکایت سامنے نہیں آئی۔ادارے کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال کے مقابلے میں پیٹرول گاڑیوں کا مارکیٹ شیئر 47.6 فیصد سے کم ہو کر تقریباً 41 فیصد رہ گیا، جبکہ سی این جی گاڑیوں کا حصہ 21 فیصد سے بڑھ کر 24 فیصد اور الیکٹرک گاڑیوں کا حصہ 5 فیصد سے بڑھ کر تقریباً 8 فیصد ہو گیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ E20 پیٹرول سے متعلق غیر یقینی صورتحال، ایندھن کی بچت اور گاڑیوں کی مطابقت کے بارے میں خدشات نے کئی خریداروں کو پیٹرول گاڑی خریدنے سے روک دیا ہے، جبکہ واضح معلومات اور مؤثر آگاہی مہم اس بے یقینی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔FADA کے مطابق جولائی میں بھارت میں مسافر گاڑیوں کی مجموعی ریٹیل فروخت میں سالانہ بنیاد پر 19.1 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور یہ بڑھ کر 4 لاکھ 16 ہزار 555 یونٹس تک پہنچ گئی، جس کی بڑی وجوہات ٹیکس میں کمی اور نئے ماڈلز کی مارکیٹ میں آمد قرار دی جا رہی ہیں۔

Leave A Comment

Advertisement