ایران میں حکومت مخالف احتجاج سے متعلق مقدمے میں دو افراد کو سرعام پھانسی دے دی گئی
ایران کی عدلیہ نے اعلان کیا ہے کہ حکومت مخالف احتجاج سے متعلق مقدمے میں سزائے موت پانے والے دو افراد کو منگل کی صبح پھانسی دے دی گئی۔ ایرانی میڈیا کے مطابق سزا صوبہ اصفہان کے شہر ملک شہر کے ایک عوامی مقام پر نافذ کی گئی۔ پھانسی پانے والوں کی شناخت ابوالفضل سپاہی اور امیر حسین صفری کے نام سے کی گئی ہے۔عدالتی بیان میں کہا گیا کہ دونوں افراد کو جنوری میں ہونے والے حکومت مخالف احتجاج کے دوران پولیس اہلکاروں پر حملے کا مجرم قرار دیا گیا تھا۔ان پر الزام تھا کہ انہوں نے پولیس اہلکاروں پر تیز دھار ہتھیاروں سے حملہ کیا، انہیں سڑک کے نشانات سے باندھا، زمین پر گھسیٹا، ان پر پٹرول چھڑکا اور آگ لگا دی۔
عدلیہ کے مطابق دونوں افراد پر ’محاربہ‘ (جنگ چھیڑنے) اور ’فساد فی الارض‘ سمیت متعدد سنگین الزامات عائد کیے گئے تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان کے اقدامات سے ملک میں امن و امان اور قومی سلامتی کو شدید نقصان پہنچا۔سزائے موت شہر کے ایک عوامی چوک میں لوگوں کی موجودگی میں نافذ کی گئی۔
تاحال اس مقدمے یا پھانسی پر بین الاقوامی ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم ایران میں سزائے موت اور عوامی مقامات پر سزاؤں کے نفاذ پر ماضی میں انسانی حقوق کی تنظیمیں مختلف خدشات کا اظہار کرتی رہی ہیں۔