تازہ ترین

کویت نے پاکستان کے ساتھ دفاعی تعاون کے ایک اہم معاہدے کی باضابطہ منظوری دینے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔  کویت نے پاکستان کے ساتھ دفاعی تعاون کے معاہدے کی شائع شدہ تفصیلات کی باضابطہ طور پر منظوری دے دی ہے، جس پر 2023 میں دستخط ہوئے تھے، آج اس کی تفصیلات کویت نے اپنے سرکاری گزٹ میں شائع کی ہیں۔ معاہدے کے تحت دونوں ممالک باہمی تربیت، معلومات اور انٹیلی جنس کا تبادلہ کریں گے اس کے علاوہ دونوں ممالک کے درمیان سائنسی اور تکنیکی تعاون کو فروغ دیا جائے گا، پاکستان اور کویت مختلف شعبوں میں اہلکاروں اور تکنیکی ماہرین کا بھی تبادلہ کریں گے، تاہم یہ معاہدہ نیا نہیں ہے بلکہ کویت کی جانب سے آج اس کی تفصیلات شائع کی گئیں۔

دونوں ممالک کے درمیان عسکری اور سکیورٹی شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کی راہ ہموار کر دی گئی ہے، اس سلسلے میں ایک فرمانِ قانون جاری کیا گیا ہے جس کے تحت 11 جون 2023ء کو کویت میں دستخط کیے گئے دفاعی تعاون کے معاہدے کی توثیق کر دی گئی، یہ فرمان کویت کے سرکاری گزٹ "کویت الیوم" کے تازہ شمارے میں شائع کیا گیا۔معاہدے کے تحت پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے، باہمی اعتماد میں اضافہ کرنے اور مختلف عسکری شعبوں میں تعاون کے لیے ایک جامع فریم ورک قائم کیا جائے گا، اس تعاون کا مقصد فوجی تربیت، عسکری تعلیم، مسلح افواج کے درمیان روابط، پیشہ ورانہ مہارتوں کے تبادلے اور دفاعی صلاحیتوں میں اضافے کو فروغ دینا ہے، اس پر عمل درآمد دونوں ممالک کے متعلقہ قوانین، ضوابط اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کے مطابق کیا جائے گا۔

معاہدے کے دائرہ کار میں فوجی تربیت اور تعلیمی پروگرام، لاجسٹک تعاون، فوجی اہلکاروں، تکنیکی ماہرین اور خصوصی شعبوں کے ماہرین کا تبادلہ، سائنسی و تکنیکی تعاون، فوجی انٹیلی جنس سے متعلق معلومات کا تبادلہ اور دیگر ایسے شعبے بھی شامل ہوں گے جن پر مستقبل میں دونوں ممالک باہمی رضامندی سے اتفاق کریں گے، اس معاہدے کے مؤثر نفاذ کے لیے دونوں ممالک ہر سال مشترکہ ایگزیکٹو پروٹوکولز اور عملی پروگرام ترتیب دیں گے تاکہ تعاون کو منظم انداز میں آگے بڑھایا جا سکے۔معاہدے میں اس امر پر بھی اتفاق کیا گیا کہ پاکستان اور کویت کے درمیان مختلف سطحوں پر سرکاری وفود کے تبادلوں کو فروغ دیا جائے گا تاکہ دفاعی اداروں کے درمیان روابط مزید مستحکم ہوں اور مشترکہ منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا جا سکے، اسی مقصد کے تحت ایک مشترکہ فوجی کمیٹی بھی قائم کی جائے گی جو معاہدے پر عمل درآمد کی نگرانی اور مختلف دفاعی سرگرمیوں میں ہم آہنگی پیدا کرنے کی ذمہ دار ہوگی، یہ کمیٹی دونوں ممالک کے وزرائے دفاع کی جانب سے نامزد نمائندوں پر مشتمل ہوگی اور سال میں کم از کم ایک مرتبہ اجلاس منعقد کرے گی۔

معاہدے میں حساس اور خفیہ معلومات کے تحفظ کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے، اس کے تحت دونوں ممالک اس بات کے پابند ہوں گے کہ ایک دوسرے سے حاصل ہونے والی خفیہ دستاویزات، معلومات یا دیگر مواد کسی تیسرے فریق کے ساتھ متعلقہ ملک کی تحریری اجازت کے بغیر شیئر نہیں کیا جائے گا، مزید برآں اس رازداری کی ذمہ داری معاہدے کے اختتام کے بعد بھی برقرار رہے گی، جس سے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد اور سیکیورٹی تعاون کو مزید تقویت ملے گی۔

 

مالی امور سے متعلق شقوں میں واضح کیا گیا ہے کہ معاہدہ باہمی مساوات اور تعاون کے اصول پر مبنی ہوگا، اس کے تحت سرکاری دوروں کے دوران میزبان ملک آنے والے وفود کے اندرونِ ملک سرکاری سفر، رہائش اور ہنگامی طبی سہولیات کے اخراجات برداشت کرے گا، جبکہ دیگر مالی معاملات باہمی اتفاق رائے کے مطابق طے کیے جائیں گے، معاہدے کی دفعات پاکستان یا کویت کی کسی دوسرے بین الاقوامی معاہدے یا ذمہ داریوں پر اثر انداز نہیں ہوں گی، اگر مستقبل میں معاہدے کی تشریح یا اس پر عمل درآمد کے حوالے سے کوئی اختلاف پیدا ہوتا ہے تو اسے دوستانہ مشاورت اور باہمی مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے گا، اور ایسا کوئی تنازعہ کسی تیسرے فریق، ملکی عدالت یا بین الاقوامی عدالتی فورم کے سامنے پیش نہیں کیا جائے گا۔

 

 

 

 

 

Leave A Comment

Advertisement