ایک صدی پرانے مسائل حل کرنے والے چینی ماہرین نے دنیا کا سب سے بڑا ریاضیاتی اعزاز اپنے نام کرلیا
ایک صدی سے زائد عرصے سے حل طلب ریاضیاتی مسائل کا حل پیش کر کے دو چینی ماہرینِ ریاضی نے پہلی بار دنیا کے سب سے بڑے ریاضیاتی اعزاز فیلڈز میڈل اپنے نام کرلیے۔بین الاقوامی کانگریس برائے ریاضی دانان میں چینی ماہرینِ ریاضی ہونگ وانگ اور یو ڈینگ کو یہ اعزاز امریکی ریاضی دان جان پارڈن اور کینیڈا کے جیکب تسیمرمین کے ساتھ مشترکہ طور پر دیا گیا۔ دونوں فاتحین کو 15 ، 15 ہزار کینیڈین ڈالرز انعام کے طور پر دیے گئے۔
دونوں چینی ریاضی دانوں نے ایسے پیچیدہ مسائل حل کیے جنہوں نے ایک صدی سے زائد عرصے تک دنیا بھر کے ماہرینِ ریاضی کو الجھائے رکھا۔35 سالہ ہونگ وانگ، جو اس وقت امریکا اور فرانس میں تدریسی خدمات انجام دے رہی ہیں، فیلڈز میڈل حاصل کرنے والی تاریخ کی تیسری خاتون بھی بن گئی ہیں۔ امریکا میں منعقدہ تقریب کے دوران فیلڈز میڈل، جسے ریاضی کا نوبیل انعام بھی کہا جاتا ہے، باضابطہ طور پر فاتحین کے حوالے کیا گیا۔ یہ اعزاز ایسے وقت میں دیا گیا ہے جب مصنوعی ذہانت (اے آئی) انسانی ذہنی صلاحیتوں کے مختلف شعبوں میں تیزی سے نمایاں ہو رہی ہے۔اس کامیابی نے چین میں سوشل میڈیا پر بھی غیرمعمولی توجہ حاصل کی۔
واضح رہے کہ فیلڈز میڈل ہر چار سال بعد 40 برس سے کم عمر ایسے غیرمعمولی ماہرینِ ریاضی کو دیا جاتا ہے جنہوں نے اس شعبے میں نمایاں اور غیرمعمولی خدمات انجام دی ہوں۔