تازہ ترین

امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کے بعد اسرائیل اور لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ نے بھی جنگ بندی پر اتفاق کر لیا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صیہونی فوج کے حملوں کے جواب میں حزب اللہ نے اسرائیلی اہداف کو نشانہ بنایا۔ اسی دوران اسرائیلی کابینہ کے وزراء کی جانب سے بھی نفرت انگیز بیانات سامنے آئے تھے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایک سینئر امریکی عہدیدار نے بتایا ہے کہ اسرائیل اور حزب اللہ جنگ بندی پر متفق ہو گئے ہیں اور یہ جنگ بندی جمعے کو مقامی وقت کے مطابق شام چار بجے سے شروع ہوگی۔امریکی عہدیدار کے مطابق اس جنگ بندی کو حتمی شکل دینے میں امریکی اور قطری مذاکرات کاروں نے کردار ادا کیا ہے جب کہ ایران نے بھی اس عمل میں معاونت فراہم کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جمعے کے روز جھڑپوں کے بعد دونوں فریق جنگ بندی پر راضی ہوگئے ہیں۔حزب اللہ سے تعلق رکھنے والے ایک رکنِ پارلیمان نے بتایا ہے کہ ایران نے حزب اللہ کو آگاہ کیا ہے کہ واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات اس وقت تک آگے نہیں بڑھ سکتے جب تک ایک جامع جنگ بندی پر عمل درآمد نہ ہو جائے۔

اسرائیل نے بھی حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اگر اسرائیل پر حملے رک جانے کی شرط پر یہ معاہدہ برقرار رہے گا۔ ایک سینئر اسرائیلی عہدیدار کے مطابق اسرائیل اور حزب اللہ اس وقت جنگ بندی کی حالت میں ہیں لیکن یہ صورت حال حزب اللہ کی جانب سے کسی بھی حملے سے مشروط ہے۔اسرائیلی عہدیدار کا کہنا تھا کہ اگر حزب اللہ اسرائیل پر حملہ کرتی ہے تو پھر صورت حال تبدیل ہو جائے گی اور دونوں فریق دوبارہ جنگ کی حالت میں آ جائیں گے۔

 

Leave A Comment

Advertisement