تازہ ترین

ایرانی ذرائع ابلاغ نے آبنائے ہرمز کے قریب امریکی افواج اور پاسدارانِ انقلاب کے درمیان براہِ راست جھڑپوں کی اطلاعات دی ہیں۔ صوبہ فارس، مغربی تہران، بندرعباس، مینا ب، سیرک، قشم، ہینگام اور جزیرہ کیش سمیت مختلف علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔بندرگاہ گرگان کے اطراف بھی دھماکوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں جس کے بعد سیکیورٹی ادارے متحرک ہو گئے ہیں۔

 
 

دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے ایران میں متعدد اہداف پر نئی فوجی کارروائیوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حملے خطے میں امریکی مفادات کے تحفظ اور ایران کی مبینہ جارحانہ سرگرمیوں کے جواب میں کیے جا رہے ہیں۔امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق تازہ حملوں میں جنوبی ایران میں فضائی دفاعی نظام، ریڈار اسٹیشنز اور دیگر حساس تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکی وزیر دفاع ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کا عندیہ دے چکے تھے۔امریکی حکام کا کہنا تھا کہ حملوں کا مقصد ایران کی اہم عسکری تنصیبات کو نشانہ بنانا اور خطے میں واشنگٹن کی دفاعی پوزیشن کو مضبوط بنانا ہے۔

ایرانی خبر ایجنسیوں کا دعویٰ ہے کہ امریکی حملوں کے بعد آبنائے ہرمز کے قریب کشیدگی کھلی عسکری محاذ آرائی میں تبدیل ہو گئی ہے۔ ایرانی مسلح افواج نے امریکی بحری جہازوں کو میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنانے کی کوشش کی تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

 

Leave A Comment

Advertisement