ہیلی کاپٹرگرانےکاالزام، امریکا کےایران پرحملے ، جزیرہ قشم ،جسک ، کوہ مبارک اورسیرک پر بم برسادئیے
امریکا نے اپنے فوجی ہیلی کاپٹر کو گرائے جانے کے جواب میں ایران کے مختلف علاقوں میں فضائی حملے کیے ہیں، جن میں فوجی تنصیبات، ریڈار سسٹمز اور دیگر اہم اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ حملوں میں جزیرہ قشم، جسک، کوہ مبارک اور سیرک کے علاقوں میں واقع ایرانی فوجی تنصیبات اور پانی کے ذخائر کو ہدف بنایا گیا، آبنائے ہرمز کے قریب ٹیلی کمیونی کیشن ٹاور، ریڈار اور فضائی دفاعی نظام پر بھی بمباری کی گئی۔حملوں کے دوران اہواز، ہرمزگان اور بندرعباس میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جس سے علاقوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر کو نشانہ بنائے جانے کے بعد یہ کارروائی کی گئی، جبکہ ہیلی کاپٹر کے دو اہلکاروں کو ڈرون آپریشن کے ذریعے بحفاظت نکال لیا گیا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا خیال ہے کہ ایران پر حملوں کے باوجود تہران کے ساتھ ممکنہ امن معاہدے پر منفی اثر نہیں پڑے گا۔وائٹ ہاؤس کے ایک اعلیٰ اہلکار نے بھی کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مجوزہ معاہدے کی نوعیت فی الحال وہی ہے جو پہلے تھی اور مذاکراتی عمل متاثر نہیں ہوا۔