اسرائیل اور لبنان میں جنگ بندی کے لیے امریکا کا نیا منصوبہ
امریکا نے لبنان اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے ایک نئے سفارتی منصوبے کی تجویز پیش کر دی ہے، تاہم فریقین کے درمیان اختلافات کے باعث تاحال کسی حتمی اتفاق رائے تک نہیں پہنچا جا سکا۔ امریکی حکام نے بتایا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے لبنانی صدر جوسیف آؤن اور اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے الگ الگ رابطے کیے، جن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان جاری سفارتی مذاکرات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ایک امریکی عہدیدار کے مطابق امریکا نے لبنان اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے ایک منصوبہ پیش کیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت پہلے مرحلے میں حزب اللہ اسرائیل پر حملے روک دے گی، جبکہ اس کے بدلے میں اسرائیل بیروت میں مزید فوجی کارروائیاں نہیں کرے گا اور حالات کو مزید خراب ہونے سے بچائے گا۔ اس اقدام سے بتدریج کشیدگی کم کرنے اور مؤثر جنگ بندی کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ صدر جوزف عون نے اس تجویز کو آگے بڑھانے اور دونوں جانب سے اتفاق رائے حاصل کرنے کی کوشش کی۔ تاہم لبنانی پارلیمان کے اسپیکر نبیح بیری ، جنہوں نے حزب اللہ کی جانب سے جنگ بندی پر عمل درآمد کی ضمانت دینے کا دعویٰ کیا، نے اس معاملے میں ذمہ داری اسرائیل پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ پہلے فائرنگ بند کرنے کی ذمہ داری اسرائیل کی ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم نے اتوار کو کہا کہ انہوں نے حزب اللہ کے خلاف کارروائیوں کے دوران فوج کو لبنان کے اندر مزید پیش قدمی کا حکم دیا ہے، حالانکہ جنگ بندی کا اعلان چھ ہفتوں سے زائد عرصہ قبل کیا جا چکا تھا۔اسرائیلی فوج کے دستوں نے جنوبی لبنان میں واقع 900 سال قدیم بیوفورٹ قلعہ اور ایک اہم اسٹریٹجک پہاڑی سلسلے پر قبضہ کیا۔یہ کارروائی ایسے وقت میں کی گئی جب ایک روز قبل اپریل میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد شمالی اسرائیل پر حزب اللہ کی جانب سے شدید ترین راکٹ اور میزائل حملوں میں سے ایک حملہ کیا گیا تھا، جس کے نتیجے میں اسرائیلی حکام نے کئی علاقوں میں اسکول بند کر دیے اور مختلف پابندیاں نافذ کر دیں۔
امریکی عہدیدار نے واضح کیا کہ واشنگٹن یہ توقع نہیں رکھتا کہ اسرائیل حزب اللہ کی جانب سے اپنے شہریوں پر مسلسل حملوں کو خاموشی سے برداشت کرتا رہے۔امریکا کا مؤقف ہے کہ موجودہ تجویز دونوں فریقوں کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور جنگ بندی کو مؤثر بنانے کی ایک عملی کوشش ہے۔