تازہ ترین

ملک میں قلیل مدتی مہنگائی کی سالانہ شرح بڑھ کر 12.31 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جس کی بڑی وجہ ایل پی جی اور جلد خراب ہونے والی اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافہ ہے۔ ایک ہفتے کے دوران ٹماٹر کی قیمت میں 54.18 فیصد جبکہ ایل پی جی کی قیمت میں 3.72 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ سالانہ بنیادوں پر ایل پی جی کی قیمت میں 114.88 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ادارہ شماریات پاکستان کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 5 نومبر کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران حساس قیمت اشاریے (ایس پی آئی) کی بنیاد پر قلیل مدتی مہنگائی کی شرح سالانہ بنیادوں پر 12.31 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

ادارہ شماریات کے مطابق 51 ضروری اشیا میں سے 21 اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، جو مجموعی اشیا کا 41.18 فیصد بنتا ہے۔ اسی طرح 10 اشیا کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی، جن کا تناسب 19.60 فیصد رہا، جبکہ 20 اشیا کی قیمتیں مستحکم رہیں، جو مجموعی تعداد کا 39.22 فیصد ہیں۔ گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں ٹماٹر کی قیمت میں سب سے زیادہ 54.18 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ ایل پی جی 3.72 فیصد، آلو 2.07 فیصد، انڈے 1.17 فیصد، لہسن 1.06 فیصد اور جلانے کی لکڑی 1.01 فیصد مہنگی ہوئی۔اسی طرح پسا ہوا نمک 0.91 فیصد، سادہ ڈبل روٹی 0.64 فیصد، تازہ دودھ 0.49 فیصد، دہی 0.41 فیصد، ماچس 0.16 فیصد اور شرٹنگ کا کپڑا 0.15 فیصد مہنگا ہوا۔

گزشتہ ہفتے کے دوران پیٹرول کی قیمت میں 4.20 فیصد اور ڈیزل کی قیمت میں 2.97 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔اسی طرح چنے کی دال 1.08 فیصد، کیلے 0.85 فیصد، پیاز 0.82 فیصد، خشک دودھ 0.73 فیصد، مرغی کا گوشت 0.61 فیصد، چینی 0.40 فیصد، گندم کا آٹا 0.34 فیصد اور مونگ کی دال 0.27 فیصد سستی ہوئی۔

ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں ایل پی جی کی قیمت میں سب سے زیادہ 114.88 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ ٹماٹر 78.89 فیصد اور پہلی سہ ماہی کے لیے بجلی 52.38 فیصد مہنگی ہوئی۔سالانہ بنیادوں پر ڈیزل کی قیمت میں 39.27 فیصد، پیٹرول 36.34 فیصد، گندم کا آٹا 33.95 فیصد، مرغی کا گوشت 31.81 فیصد اور پسی ہوئی مرچ کی قیمت میں 15.55 فیصد اضافہ ہوا۔اسی طرح بکرے کا گوشت 14.54 فیصد، پیاز 13.64 فیصد، سادہ ڈبل روٹی 12.35 فیصد اور گائے کا گوشت 11.06 فیصد مہنگا ہوا۔

 

Leave A Comment

Advertisement