تازہ ترین

امریکا کے وسط مدتی انتخابات میں حکمراں جماعت ریپبلکن پارٹی کو تاریخی سیاسی شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے جہاں اپوزیشن ڈیموکریٹک پارٹی نے ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں فیصلہ کن اکثریت حاصل کر کے واشنگٹن میں طاقت کا توازن یکسر بدل دیا ہے۔

امریکی ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹس نے 231 نشستیں جیت کر دو تہائی سے زائد اکثریت حاصل کی جبکہ ریپبلکنز صرف 139 نشستیں حاصل کر سکے، اس کے علاوہ سینیٹ کے 100 رکنی ایوان میں ہونے والے انتخابات کے بعد ڈیموکریٹس نے 54 نشستیں اپنے نام کر لیں جبکہ ریپبلکنز کے حصے میں 44 نشستیں آئیں۔انتخابی مہم کے دوران تاریخ کی مہنگی ترین کیمپینز کا ریکارڈ قائم ہوا جس میں 11 ارب 9 کروڑ ڈالر سے زائد رقم خرچ کی گئی جبکہ 5 کروڑ 70 لاکھ سے زائد ووٹرز نے پیشگی ووٹنگ میں حصہ لیا۔

انتخابی نتائج میں کئی تاریخی اور اہم تبدیلیاں سامنے آئی ہیں جہاں ریاست مشی گن سے ڈیموکریٹ امیدوار عبدالرحمان السید نے سینیٹ کی نشست جیت کر امریکی تاریخ کے پہلے مسلمان سینیٹر بننے کا اعزاز حاصل کیا۔

 نیوجرسی سے مصری نژاد امریکی سرجن ڈاکٹر آدم حماوی نے بھی کامیابی حاصل کر کے کانگریس کے پہلے مسلمان رکن کی حیثیت سے منتخب ہونے کی تاریخ رقم کی۔ آدم حماوی نے اپنی مہم کے دوران اسرائیل کو امریکی فوجی امداد بند کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

ایوانِ نمائندگان میں راشیدہ طالب، الہان عمر، ڈیبی واسرمین، جیئرڈ موسکووز، کیتھی کاسٹر اور نیویارک سے کیٹ کونلی نے نمایاں فتوحات حاصل کیں، جبکہ نیومیکسیکو سے لگونا پیوبلو قبیلے سے تعلق رکھنے والی ڈیب ہالینڈ کسی بھی امریکی ریاست کی گورنر بننے والی پہلی مقامی امریکی (ریڈ انڈین) خاتون منتخب ہو گئی ہیں۔

 متعدد پاکستانی نژاد امیدواروں نے بھی ریاستی اسمبلیوں اور کونسلز کے انتخابات میں شاندار کامیابی حاصل کی جن میں پنسلوانیا سے مریم صبیح، کنیکٹی کٹ سے مریم خان اور سعود انور، ٹیکساس سے سلمان بھوجانی اور سلیمان لالانی، اور جارجیا سے فاروق مغل شامل ہیں۔

انتخابی شکست کے بعد وائٹ ہاؤس میں پریس سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تسلیم کیا کہ ریپبلکنز کے کامیاب نہ ہونے کی ایک بڑی وجہ ایران کے خلاف جاری جنگ اور اس کے نتیجے میں پیٹرول کی قیمتوں میں ہونے والا اضافہ تھا، جو عوام کے لیے ناقابلِ قبول ثابت ہوا۔تاہم صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف جنگ کے فیصلے کا بھرپور دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس اقدام کو درست سمجھتے ہیں اور ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ ایران کے خلاف عسکری کارروائیوں کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔

امریکی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی اس عبرتناک شکست پر تہران میں جشن کا ماحول دیکھا گیا جہاں ایرانی شہریوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ، نائب صدر جے ڈی وینس اور اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو کی تصاویر والے بینرز کو نذرِ آتش کرتے ہوئے ایران کے حق میں شدید نعرے بازی کی۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق وسط مدتی انتخابات کے ان غیر معمولی نتائج کے بعد صدر ٹرمپ کو اپنی مدتِ صدارت کے بقیہ ایام میں ایک مضبوط اپوزیشن کا سامنا رہے گا، جو ان کی داخلی اور خارجی پالیسیوں کے راستے میں بڑی قانونی اور آئینی رکاوٹیں کھڑی کر سکتی ہے۔

 

 

 

 

Leave A Comment

Advertisement