قومی اسمبلی میں پیٹرولیم لیوی اور کلائمیٹ لیوی آرڈیننس ترمیمی بل 2026 پیش کر دیا گیا۔ بل میں پیٹرولیم کمپنیوں اور ریفائنریز کے لیے لیوی کی ادائیگی لازمی بنانے اور عدم ادائیگی پر جرمانے، لائسنس کی معطلی اور 3 سال تک قید کی سزا تجویز کی گئی ہے۔
قومی اسمبلی میں پیٹرولیم لیوی اور کلائمیٹ لیوی آرڈیننس ترمیمی بل 2026 پیش کر دیا گیا۔ بل وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے پیش کیا۔بل میں مارکیٹنگ کمپنیوں، ریفائنریز اور لائسنس ہولڈرز کو پیٹرولیم لیوی اور کلائمیٹ لیوی ادا کرنے کا پابند بنانے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ان لیویز کی ادائیگی کو لائسنس کے اجرا کی شرط بنانے کی بھی تجویز ہے۔بل کے مطابق کمپنیاں لائسنس جاری ہونے کی تاریخ سے پیٹرولیم لیوی اور کلائمیٹ لیوی ادا کرنے کی پابند ہوں گی، جبکہ ریفائنریز کو اپنی مصنوعات پر لیوی پیشگی ادا کرنا ہوگی۔ مصنوعات ریفائنری کے گیٹ سے باہر نکلنے سے پہلے لیوی کی ادائیگی لازمی ہوگی۔تجویز کے مطابق لیوی کی ادائیگی میں تاخیر کی صورت میں اضافی سرچارج وصول کیا جائے گا۔ اس کی شرح 6 ماہ کے کائبور کے ڈیڑھ گنا یا سالانہ 12 فیصد مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔بل میں یہ بھی تجویز کیا گیا ہے کہ سرچارج یا لیوی ادا نہ کرنے پر اوگرا متعلقہ کمپنی کا لائسنس معطل کر سکے گا۔
مزید برآں، لیوی یا جرمانے کی عدم ادائیگی پر 3 سال تک قید، جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکیں گی۔ اس صورت میں متعلقہ کمپنی کے تمام ڈائریکٹرز کے خلاف بھی کارروائی کی جا سکے گی۔بل کے تحت ہر کمپنی اور ریفائنری کے لیے لیوی کی ادائیگی سے متعلق ماہانہ گوشوارہ جمع کرانا بھی لازمی قرار دینے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔
Leave A Comment