پیرس سمیت فرانس کے کئی شہروں میں کرفیو نافذ
فرانسیسی حکام نے ملک گیر حکومت مخالف مظاہروں کے بعد پرتشدد فسادات اور لوٹ مار کے واقعات کے پیشِ نظر دارالحکومت پیرس، لائل اور نائس سمیت متعدد شہروں کے مختلف علاقوں میں جزوی اور مقامی سطح پر کرفیو نافذ کر دیا ہے۔فرانسیسی صدر امانوئل میکرون کی کمزور حکومت کو ملک میں سیکیورٹی کی ناکامیوں پر سخت تنقید اور سیاسی دباؤ کا سامنا ہے، جبکہ حکومت آئندہ صدارتی انتخابات سے صرف چھ ماہ قبل معاشی بحران اور قرضوں کے بڑھتے ہوئے حجم کو سنبھالنے کی کوشش کر رہی ہے۔
پیرس پولیس کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق شہر کے مخصوص علاقوں میں شام آٹھ بجے سے مظاہروں پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، جبکہ پلیس ڈی لا ریپبلک اور لیس ہالس کے گرد و نواح میں رات 11 بجے سے صبح چھ بجے تک کرفیو نافذ رہے گا۔لائل، ڈوئے، واٹنیز اور ڈینین کے علاقوں میں مقامی میئرز کی منظوری سے آئندہ دو روز کے لیے کم عمر افراد پر رات آٹھ بجے سے صبح چھ بجے تک باہر نکلنے پر پابندی لگائی گئی ہے، جبکہ نائس کے میئر نے بھی شہر کے وسطی علاقے میں کمسن بچوں کے لیے رات میں کرفیو نافذ کرنے کا حکم نامہ جاری کیا ہے۔مارسیل کی مقامی انتظامیہ نے تمام تر اجتماع اور مظاہروں پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔