اوکاڑہ: خودساختہ اغواء تین کروڑ تاوان کا ڈرامہ بے نقاب، دونوں نوجوان بازیاب
تھانہ صدر اوکاڑہ کاروان ٹاؤن سے لاپتہ ہونے والے دو نوجوانوں کے اغواء برائے تاوان کا معاملہ پولیس کی بروقت اور مؤثرکارروائی سے خودساختہ اغواء کا ڈرامہ بے نقاب ہوگیا پولیس نے دونوں نوجوانوں کو بحفاظت بازیاب کرلیا.
عزیز پارک کے رہائشی 22 سالہ احمد رضا اور 20 سالہ علی اسفند دونوں گہرے دوست ہیں جو تین روز قبل اکٹھے گھر سے نکلے تھے جن کے واپس نہ آنے پر اہلخانہ کی نے پولیس کو اطلاع دی گئی۔اہلخانہ کی درخواست موصول ہونے پر تھانہ صدر اوکاڑہ میں اغواء کا مقدمہ درج کیا گیا پولیس نے دونوں نوجوانوں کی تلاش شروع کردی گئی۔پولیس کے مطابق ابتدائی تفتیش کے دوران علی اسفند کے موبائل نمبر سے واٹس ایپ کے ذریعے اہلخانہ کو پیغام موصول ہوا جس میں تین کروڑ روپے تاوان کا مطالبہ کیا گیا اور رقم کرپٹو کرنسی کے ذریعے ادا کرنے کا کہا گیا۔
جدید ٹیکنالوجی، سیف سٹی کیمروں اور مختلف مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج سے مدد حاصل کی۔ فوٹیج کے تجزیے سے اہم شواہد سامنے آئے جن سے معلوم ہوا کہ دونوں نوجوان موٹر سائیکل پر خود ہی روانہ ہوئے تھے۔پولیس نے دستیاب شواہد اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے دونوں نوجوانوں کا سراغ لگایا۔ ابتدائی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ دونوں نوجوانوں نے خودساختہ اغواء کا منصوبہ بنایا اور واٹس ایپ کے ذریعے خود ہی تاوان کے پیغامات ارسال کیے۔ دونوں نوجوانوں نے ایک ویڈیو بیان بھی جاری کیا گیا ہے جس میں انہوں نے اعتراف کیا کہ وہ اپنی مرضی سے گئے تھے۔بازیاب نوجوانوں نے مجسٹریٹ کے رو برو بھی زیر دفعہ 164 ضابطہ فوجداری اپنی مرضی سے جانے کے بیانات قلمبند کروا دیے.
پولیس ترجمان کے مطابق ابتدائی تفتیش میں یہ پہلو بھی سامنے آیا ہے کہ علی اسفند کا بھائی سخاوت کرپٹو کرنسی کے کاروبار سے وابستہ ہے جبکہ احمد رضا نے اسفند کو اس نوعیت کا منصوبہ بنانے کا مشورہ دیا۔ پولیس کی بروقت کارروائی کے نتیجے میں دونوں نوجوانوں کو بازیاب کرلیا گیا۔