تازہ ترین

سعودی عرب کی اہم ترین ’ایسٹ ویسٹ پائپ لائن‘ کی بحالی میں مزید تاخیر کی صورت میں اسے تیل کے ذخائر میں شدید کمی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ یہ پائپ لائن جمعے کے روز عراق سے ہونے والے ڈرون حملے کے بعد غیر فعال کر دی گئی تھی۔جمعے کے روز عراق سے ہونے والے ڈرون حملوں کے بعد سعودی عرب کو اپنی سب سے بڑی ’ایسٹ ویسٹ پائپ لائن‘ کو بند کرنا پڑا تھا۔ ریاض کی جانب سے تاحال نقصان کے حجم یا پائپ لائن کی بحالی کے لیے درکار وقت کے حوالے سے حتمی تفصیلات جاری نہیں کی گئی ہیں۔

سعودی عرب نے حوثیوں کے حملے کے بعد اہم آئل پائپ لائن بند کردیhttps://www.rehbernews.com/news_single_sub_category.php?id=91286

ماہرین کے مطابق اگر یہ پائپ لائن چند روز میں فعال نہ ہوئی تو سعودی عرب کی روزانہ تقریباً 40 لاکھ بیرل تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے، جو عالمی سپلائی کا تقریباً 4 فیصد بنتی ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق سعودی تیل کے خریداروں اور تاجروں کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کی تیل کی برآمدات میں مزید کمی عالمی منڈی میں پہلے سے موجود بحران کو مزید سنگین بنا سکتی ہے۔پائپ لائن کی مکمل مرمت میں پانچ سے چھ ہفتے لگ سکتے ہیں، تاہم کچھ ماہرین کا ماننا ہے کہ مرمت کے دوران ہی جزوی طور پر تیل کی ترسیل شروع کی جا سکتی ہے۔ایسٹ ویسٹ پائپ لائن سعودی عرب کی سب سے اہم اور تزویراتی زمینی سپلائی لائن ہے۔ یہ پائپ لائن خلیجِ فارس کے خطرناک بحری راستوں خصوصاً آبنائے ہرمز کو بائی پاس کر کے تیل دنیا تک پہنچانے کے لیے بنائی گئی ہے۔

 سعودی عرب تیل برآمد کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے جو مشرقِ وسطیٰ میں گزشتہ چھ ماہ سے جاری جنگ اور آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد سے اس پائپ لائن کے ذریعے روزانہ تقریباً 40 لاکھ بیرل تیل، جو عالمی تیل کی ترسیل کا 4 فیصد بنتا ہے، بحیرہ احمر پر واقع سعودی بندرگاہ ’ینبع‘ تک منتقل کیا جا رہا تھا۔پائپ لائن بند ہونے کے بعد ’ینبع‘ بندرگاہ پر موجود ذخائر محض 5 سے 7 دن تک کا تیل ہی محفوظ رکھ سکتے ہیں۔

ایک اور ذریعے کے مطابق سعودی عرب مصر کی بحیرہ احمر پر واقع ’عین سخنہ‘ اور بحیرہ روم پر واقع بندرگاہ ’سیدی کریر‘ پر موجود ذخائر سے بھی کئی روز تک تیل کی فراہمی جاری رکھ سکتا ہے۔صنعتی اندازوں کے مطابق یَنبع میں تقریباً 3 کروڑ 50 لاکھ بیرل تیل ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہے، جبکہ عین سخنہ اور سیدی کریر میں بالترتیب تقریباً 1 کروڑ 80 لاکھ اور 2 کروڑ بیرل تیل ذخیرہ کیا جا سکتا ہے۔ تاہم ذرائع کے مطابق یہ ذخائر مکمل طور پر بھرے ہوئے نہیں ہیں اور مشرق سے مغرب جانے والی پائپ لائن کی بحالی کے بغیر بالآخر ختم ہو جائیں گے۔

بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) نے جمعے کو بتایا تھا کہ آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر کے راستے تیل کی ترسیل میں کمی کے باعث اگست میں سعودی عرب کی تیل سپلائی تین دہائیوں سے زیادہ عرصے کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔سعودی تیل کی سپلائی میں ہونے والی اس کمی نے عالمی مارکیٹ کو بھی ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ایندھن کی قیمتیں پہلے ہی ریکارڈ سطح پر پہنچ چکی ہیں اور دنیا بھر میں مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے، جس نے 2008 کے معاشی بحران کے بعد امریکی بانڈز کو اپنی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔

یمن میں حوثی جنگجوؤں نے بھی سعودی تیل کی ترسیل کو نشانہ بنانے کی دھمکی دے رکھی ہے۔ جمعے کو حوثی جنگجوؤں نے بحیرہ احمر کے دہانے پر واقع ایک جزیرے ’پیرم آئی لینڈ‘ پر بھی قبضہ بھی کر لیا ہے۔ایران جنگ سے قبل مشرق وسطیٰ سے روزانہ تقریباً 2 کروڑ 20 لاکھ بیرل تیل عالمی منڈی میں پہنچتا تھا۔ صنعتی ذرائع کے مطابق اب آبنائے ہرمز سے گزرنے والی تیل کی مقدار کم ہو کر صرف 60 لاکھ سے 90 لاکھ بیرل یومیہ رہ گئی ہے۔

سعودی عرب نے گزشتہ ہفتے تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم ’اوپیک‘ کو بتایا تھا کہ اگست میں اس کی تیل پیداوار کم ہو کر صرف 62 لاکھ بیرل یومیہ رہ گئی، جبکہ جنگ شروع ہونے سے قبل فروری میں یہ مقدار 1 کروڑ 9 لاکھ بیرل یومیہ تھی۔

 

 

Leave A Comment

Advertisement