تازہ ترین

لاہور میں اچانک سڑک پر آکر تیز رفتار بائیک والے کو روکنے اور حادثے میں نوجوان کی ہلاکت پر حکام نے نوجوان کی لاش روک لی اور اہل خانہ کو دستخط لینے کے بعد میت اس شرط پر واپس دینے کا انکشاف ہوا ہے کہ وہ کوئی قانونی کارروائی نہیں کریں گے۔ لاہور کے علاقے شادمان میں گزشتہ روز ناکے پر میڈیا پرسن کے ساتھ آنے والے موٹرسائیکل سوار کو پولیس اہلکار نے روکا تاہم نوجوان کنٹرول کھو بیٹھا اور گاڑی سے گرا جبکہ میڈیا پرسن بھی واقعے میں زخمی ہوا تھا۔حادثے میں 30 سالہ زین الیاس جاں بحق ہوگیا تھا جس کی لاش کو پولیس نے تحویل میں رکھا اور آج ضابطے کی کارروائی کے بعد لاش ورثا کے حوالے کر دی گئی۔

فیملی ذرائع نے بتایا کہ زین کے ورثا سے کارروائی نہ کرنے کی شرط پر دستخط کرنے کے بعد لاش دی گئی ہے تاہم پولیس کی جانب سے اس الزام کی تردید کی جارہی ہے۔اہل خانہ نے بتایا کہ زین کی نماز جنازہ بعد نماز عصر لاہور کے علاقے ساندہ میں ادا کی گئی۔ متوفی غیر شادی شدہ اور پیشے کے اعتبار سے الیکڑیشن تھا۔

سی ٹی او لاہور نے 30 سالہ زین کو سٹرک پر روکنے والے ٹریفک وارڈن سلطان الحق غفلت اور لاپرواہی برتنے پر معطل کر دیا گیا۔

Leave A Comment

Advertisement