'معاہدۂ مکہ' مسلم ممالک کا اندرونی معاملہ ہے، کسی اور کو تکلیف نہیں ہونی چاہیے: بنگلادیش
بنگلا دیش کے وزیرِ خارجہ خلیل الرحمان نے کہا ہے کہ اگر ’معاہدۂ مکہ‘ کے رکن ممالک بنگلا دیش کو کی دعوت دیتے ہیں تو ڈھاکہ اس پیشکش پر مثبت انداز میں غور کرے گا۔ انہوں نے ںام لیے بغیر بھارت کو وارننگ دیتے ہوئے اس معاملے کو امتِ مسلمہ کا اندونی معاملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس معاہدے پر کسی اور کو کوئی تشویش نہیں ہونی چاہیے۔
پارلیمان میں ممبر اسمبلی رومین فرحانہ کے ایک سوال کے جواب میں وزیرِ خارجہ خلیل الرحمان نے کہا کہ ’بنگلا دیش مکہ معاہدے کو مثبت نظر سے دیکھتا ہے۔‘انہوں نے کہا کہ اِس وقت بنگلا دیش کی جانب سے معاہدے میں شمولیت یا اس کی رکنیت حاصل کرنے پر غور کرنے کا سوال اِس لیے پیدا نہیں ہوتا کیوں کہ یہ معاملہ موجودہ رکن ممالک کے ارادے پر منحصر ہے۔اگر رکن ممالک بنگلا دیش کو اس معاہدے میں شامل کرنے کا ارادہ ظاہر کرتے ہیں تو ہم یقیناً اس پر مثبت انداز میں غور کریں گے۔
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیے کے درمیان طے پانے والا دفاعی معاہدہ 7 اگست کو سامنے آیا تھا۔ معاہدے کی سب سے قابِل ذکر شق یہ ہے کہ ’کسی ایک رکن پر حملے کو تمام ارکان پر حملہ تصور کیا جائے گا۔‘ بنگلہ دیشی وزارتِ خارجہ کے ایک ذریعے کے حوالے سے دعویٰ ہے کہ سعودی عرب نے ڈھاکا کو معاہدے میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے۔ترک صدر اور وزیرِ خارجہ واضح متعدد مرتبہ کہہ چکے ہیں پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ ہونے والے مشترکہ دفاعی معاہدے میں مزید ممالک کی شمولیت کا بھی امکان موجود ہے۔