لاہور: بغیر ہیلمٹ موٹرسائیکل سواروں کے خلاف ’’جنرل ہولڈ اپ‘‘ کا فیصلہ، اہم شاہراہوں پر داخلہ بند
لاہور ٹریفک پولیس نے شہر میں ٹریفک حادثات اور ان کے نتیجے میں ہونے والے جانی نقصان کو روکنے کے لیے بغیر ہیلمٹ موٹرسائیکل سواروں کے خلاف کریک ڈاؤن انتہائی سخت کرنے کا اعلان کیا ہے۔ چیف ٹریفک آفیسر (سی ٹی او) لاہور سید عبدالرحیم شیرازی کے احکامات پر آج شہر بھر میں خصوصی ’’جنرل ہولڈ اپ‘‘ کا انعقاد کیا جا رہا ہے، جس کے تحت بغیر ہیلمٹ کسی بھی موٹرسائیکل سوار کو شہر میں داخلے یا سفر کی اجازت نہیں ہوگی۔
مال روڈ، جیل روڈ، کینال روڈ اور مین بلیوارڈ روڈ جیسی مصروف ترین شاہراہوں پر بغیر ہیلمٹ موٹرسائیکلسٹ کے چلنے پر ہرگز رعایت نہیں برتی جائے گی۔ اس سلسلے میں تمام ایس پیز اور ڈی ایس پیز کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ شہر کے تمام داخلی راستوں پر ٹریفک پولیس کی خصوصی ٹیمیں تعینات کریں تاکہ قاعدے کی خلاف ورزی کرنے والوں کو شہر کی حدود میں داخل ہونے سے ہی روکا جا سکے۔
ٹریفک پولیس کی جانب سے جاری کردہ تشویشناک اعداد و شمار کے مطابق رواں سال اب تک ہونے والے 139 مہلک ترین ٹریفک حادثات میں 96 موٹرسائیکل سوار اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔ مجموعی طور پر جان لیوا حادثات کا شکار ہونے والوں میں 73 فیصد تعداد موٹرسائیکل سواروں کی ہے، اور ان حادثات میں اموات کی سب سے بڑی وجہ سر پر لگنے والی شدید چوٹیں ہیں۔
لاہور دنیا کے ان بڑے شہروں میں شمار ہوتا ہے جہاں موٹرسائیکلوں کی بھرمار ہے۔ شہر کی 82 لاکھ رجسٹرڈ گاڑیوں میں سے 61 لاکھ سے زائد صرف موٹرسائیکلیں ہیں، جو حادثات کی شرح میں بھی سرفہرست ہیں۔سی ٹی او لاہور نے بتایا کہ اب تک کی سخت ہیلمٹ انفورسمنٹ مہم کے نتیجے میں سر کی چوٹوں (ہیڈ ٹراما) کے کیسز میں 40 فیصد تک کمی واقع ہوئی ہے، تاہم اس جانی نقصان کو مزید کم کرنا اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس سخت مہم کا مقصد ریونیو اکٹھا کرنا یا چالان کرنا نہیں، بلکہ شہریوں کی زندگیوں کا تحفظ ہے۔انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ ہیلمٹ کو چالان کے ڈر سے نہیں بلکہ اپنی حفاظت کے لیے پہنیں، کیونکہ ہیلمٹ ہر موٹرسائیکل سوار کی ڈھال ہے اور لین لائن ڈسپلن کی پابندی کے ساتھ چند لمحوں کی یہ احتیاط پوری زندگی کو محفوظ بنا سکتی ہے۔