ہانیہ قتل کیس، لاہورہائیکورٹ کا سی سی ڈی کے بجائے ایف آئی اے کو عدالتی تحقیقات کا حکم
ہائی کورٹ نے چکوال میں کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کے اہلکار کی فائرنگ سے ماری جانے والی نو سالہ بچی سے متعلق معاملے پر درخواست نمٹاتے ہوئے فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کو ’قانون کے مطابق کارروائی‘ کرنے کا حکم دیا ہے۔
درخواست گزار کا موقف تھا کہ جب سی سی ڈی کے اہلکار کی فائرنگ سے بچی ماری جائے تو اسی واقعے کی تحقیقات بھی سی سی ڈی خود کیسے کر سکتی ہے؟درخواست گزار کے وکیل نے گفتگو میں بتایا کہ کسٹوڈیل ٹارچر اینڈ ڈیتھز ایکٹ کے تحت اس نوعیت کے مقدمات کی تحقیقات ایف آئی اے کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں۔ آج ڈی ایس پی انویسٹی گیشن سی سی ڈی عدالت میں پیش ہوئے، تاہم یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ جب ملزم کا تعلق سی سی ڈی سے ہو تو اسی ادارے کی جانب سے تحقیقات کیسے کی جا سکتی ہیں؟اسی لیے عدالت نے ان کی درخواست پر قانونی کارروائی کے لیے ڈی جی ایف آئی اے کو ہدایت جاری کی ہے۔کیس کی سماعت کے بعد وکیل نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ چکوال میں نو سالہ ہانیہ کے قتل کے مقدمے کی تحقیقات ایف آئی اے کے حوالے کی جائیں کیونکہ قانون کے مطابق ایسے کیسز کی تفتیش ایف آئی اے ہی کر سکتی ہے۔ الزام عائد کیا کہ سی سی ڈی نے کم و بیش دو ہزار افراد کو ماورائے عدالت قتل کیا ہے۔ بعض افراد کو مارنے کے بعد لاوارث قرار دے کر دفن کر دیا گیا اور ان کی قبروں کے بارے میں بھی معلومات دستیاب نہیں ہیں۔
یاد رہے کہ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کا کہنا ہے کہ اس نے اپریل 2025، جب سی سی ڈی کی تشکیل ہوئی تھی، اور دسمبر 2025 کے درمیان کم از کم 670 مقابلوں کو ریکارڈ کیا ہے، جس کے نتیجے میں 924 اموات ہوئیں جب کہ سی سی ڈی ماورائے عدالت قتل کے الزامات کی تردید کرتی ہے۔پولیس آرڈر 2002 میں سی سی ڈی کو قانونی تحفظ فراہم کیا گیا ہے، تاہم چکوال کا واقعہ ٹرپل مرڈر کیس ہے اور اس کی تحقیقات سی سی ڈی نہیں کر سکتی۔ ’چکوال واقعے کے اگلے روز سی سی ڈی کی جانب سے دو مبینہ ڈاکوؤں کو مارنے کا دعویٰ کیا گیا، لیکن اب تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ وہ افراد کون تھے اور کس بنیاد پر ان کے خلاف کارروائی کی گئی؟