کانگو: بھوک اور بدامنی سے ایبولا پر قابو پانے میں مشکلات
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے خبردار کیا ہے کہ جمہوریہ کانگو میں تشدد سے متاثرہ مشرقی علاقوں میں ایبولا وائرس کا تباہ کن پھیلاؤ بے قابو ہو رہا ہے جبکہ مسلح جھڑپوں، بڑے پیمانے پر نقل مکانی اور بھوک نے اس مسئلے کو مزید گمبھیر بنا دیا ہے۔ادارے کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروز ایڈہانوم گیبریاسس نے کہا کہ صوبہ ایتوری میں ایبولا کے بنڈی بگیو وائرس کی وبا ایسے ماحول میں پھیل رہی ہے جہاں بدامنی، طبی مراکز پر حملوں اور آبادی کی نقل مکانی کے باعث مریضوں کے رابطوں کا سراغ لگانا اور متاثرہ افراد کو الگ رکھنا تقریباً ناممکن ہو گیا ہے۔جمہوریہ کانگو میں 900 سے زیادہ لوگوں کے اس مرض سے متاثر ہونے کا شبہ ہے جن میں 220 اموات ہو چکی ہیں تاہم لیبارٹری ٹیسٹ کے ذریعے ایک موت کی ہی تصدیق ہو سکی ہے۔ہمسایہ ملک یوگنڈا میں دو طبی کارکنوں سمیت اس بیماری کے سات مصدقہ مریض سامنے آئے ہیں جن میں ایک ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے۔
مسلسل پھیلتی وباء
ڈبلیو ایچ او' نے خبردار کیا ہے کہ وبا جغرافیائی طور پر مسلسل پھیل رہی ہے اور اس کی سرحد پار منتقلی کے شواہد بھی سامنے آ رہے ہیں۔وبا کا مرکز صوبہ ایتوری ہے، تاہم اب یہ 11 علاقوں تک پھیل چکی ہے۔اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) کے مطابق صوبہ شمالی کیوو کے شہروں بوٹیمبو اور گوما سمیت جنوبی کیوو میں بھی لوگوں کے اس سے متاثر ہونے کی اطلاع ملی ہے۔طبی حکام کا کہنا ہے کہ وائرس خاندانوں کے اندر اور صحتی مراکز کے ذریعے پھیل رہا ہے، جبکہ تیمارداری، خاندانی اجتماعات اور تدفین کی غیر محفوظ رسومات اس کے پھیلاؤ کا سبب بن رہی ہیں۔
امدادی کارروائیوں میں رکاوٹیں
وبا پر قابو پانے کی کوششیں مشرقی کانگو کے ان علاقوں میں بھی جاری ہیں جہاں کئی مسلح گروہوں کے درمیان جاری لڑائیوں کے باعث انسانی امداد تک رسائی طویل عرصہ سے محدود رہی ہے۔اقوامِ متحدہ کے امن مشن (مونوسکو)کی دسمبر 2025 میں جاری کردہ رپورٹ کے مطابق ایتوری اور شمالی کیوو میں تشدد مسلسل جاری رہا جس میں دیہات، طبی مراکز اور بے گھر افراد کی بستیوں پر حملے بھی شامل تھے۔ان حملوں میں سیکڑوں شہری ہلاک ہوئے اور بڑی تعداد میں لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔مسلح گروہوں کی جانب سے جاری لڑائی اور عائد کردہ پابندیوں نے امدادی کارروائیوں کو شدید متاثر کیا، شہریوں کی نقل و حرکت محدود کی اور بنیادی سہولیات تک رسائی میں رکاوٹیں آئیں۔
بھوک اور بیماری کا دہرا بحران
تشدد نے پہلے سے جاری انسانی بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔غذائی تحفظ کے مراحل کی مربوط درجہ بندی (آئی پی سی) کے مطابق، جنوری سے جون کے دوران ایتوری، شمالی کیوو، جنوبی کیوو اور تانگانیکا میں تقریباً ایک کروڑ افراد شدید غذائی قلت کا شکار ہیں۔ملک بھر میں اندازاً 2 کروڑ 65 لاکھ افراد کو شدید غذائی عدم تحفظ کا سامنا ہے۔ڈاکٹر ٹیڈروز نے کہا ہے کہ بھوک اور بیماری ہمیشہ سے ایک دوسرے کو تقویت دیتی ہیں۔بھوک سے کمزور ہونے والے لوگ امراض کا زیادہ آسانی سے شکار ہو جاتے ہیں۔
بنیادی ڈھانچے کی تباہی
'ڈبلیو ایچ او' کے مطابق مسلح تنازع، بنیادی ڈھانچے کی تباہی اور بدامنی امدادی سامان کی ترسیل اور طبی خدمات تک رسائی میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔ڈائریکٹر جنرل نے بتایا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں بہت سے طبی مراکز یا تو مکمل طور پر بند ہیں یا شدید مشکلات میں کام کر رہے ہیں۔خراب سڑکوں کے باعث امدادی سامان اور انسانی مدد کی ترسیل مزید محدود ہو گئی ہے۔
یونیسف نے خبردار کیا کہ بچے اس بحران سے بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ ایبولا سے متاثرہ بچے عام طور پر اپنے والدین اور نگہداشت کرنے والوں کو کھو دیتے ہیں جبکہ خوف اور معاشرتی بدنامی انہیں اپنی ہی برادریوں میں تنہا کر دیتی ہے۔ڈائریکٹر جنرل نے کانگو کے مشرقی علاقوں میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ انسانی امداد اور طبی ٹیموں کو متاثرہ علاقوں تک محفوظ رسائی فراہم کرنا ناگزیر ہے۔