بنگلادیش : خسرہ کی وبا پھوٹ پڑی
بنگلادیش میں خسرے کی وبا نے خطرناک صورت اختیار کرلی ہے، جہاں رواں سال مارچ سے 9 اکتوبر تک اس بیماری کے 2 لاکھ 2 ہزار مشتبہ کیسز رپورٹ ہوئے، جبکہ 1147 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق مرنے والوں میں 94 فیصد تعداد پانچ سال سے کم عمر بچوں کی ہے۔ 22 ہزار کیسز کی ان لیبارٹری سے تصدیق ہوچکی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بچوں کی ویکسینیشن میں کمی، صحت کے ناقص ریکارڈ اور دور دراز علاقوں تک رسائی نہ ہونے کے باعث وبا پر قابو پانے میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔
عالمی ادارہ صحت کے ویکسین مشیر اور نیویارک یونیورسٹی کے پروفیسر مارک جٹ نے خبردار کیا کہ بنگلہ دیش کی صورت حال دوسرے ممالک کے لیے بھی ایک بڑا انتباہ ہے۔ ویکسین کے ذریعے وبا کو روکنا، ہنگامی حالات میں اس کا مقابلہ کرنے کے مقابلے میں آسان، سستا اور محفوظ ہے۔ وبا پر بالآخر قابو پالیا جائے گا، لیکن اس دوران بہت سے لوگ خسرے کا شکار ہوں گے اور کچھ اپنی جان بھی گنوا دیں گے۔
بنگلادیش میں ویکسینیشن کی شرح 2024 میں پہلی خوراک کے لیے 96 فیصد اور دوسری خوراک کے لیے 93 فیصد تھی، تاہم 2025 میں یہ شرح کم ہوکر بالترتیب 90 اور 86 فیصد رہ گئی۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق خسرے کی وبا سے بچاؤ کے لیے کم از کم 95 فیصد بچوں کی ویکسینیشن ضروری ہے۔ 2024 میں سیاسی ہلچل کے بعد صحت کے شعبے میں بھی مشکلات پیدا ہوئیں، طبی عملے کی ہڑتالوں، ویکسین کی فراہمی میں تاخیر اور معمول کی ویکسینیشن متاثر ہونے سے بچوں کی بڑی تعداد حفاظتی ٹیکوں سے محروم رہ گئی۔وبا کے دوران حکومت نے اپریل اور مئی میں تقریباً 2 کروڑ بچوں کو ویکسین لگانے کا دعویٰ کیا، تاہم بعد میں سامنے آنے والی معلومات سے پتا چلا کہ لاکھوں بچے اس مہم میں شامل نہیں ہوسکے۔ اپریل میں ہنگامی مہم شروع کرنے سے پہلے تیاری کے لیے معمول کے مطابق چار مرحلوں میں جانچ کے بجائے صرف ایک مرحلہ مکمل کیا گیا، جس سے مہم کی تیاریوں اور بچوں کی درست تعداد کے تعین میں خامیاں رہ گئیں۔
بنگلادیش کی وبا میں بچوں کی اموات کی دردناک مثالیں بھی سامنے آئی ہیں۔ شمال مشرقی علاقے سلہٹ میں دو سالہ ارمان حسین جولائی میں خسرے کے باعث انتقال کرگیا۔ اس کے والد امین میاں نے بتایا کہ بیٹے کے علاج کے اخراجات پورے کرنے کے لیے انہیں اپنا تین پہیوں والا رکشہ فروخت کرنا پڑا، لیکن صحت کے کارکن ان کے گاؤں میں ویکسین لگانے کے لیے وقت پر نہیں پہنچے۔وہ میرے بیٹے کو دفنانے کے بعد آئے۔
اسی علاقے میں ایک شخص کی نو ماہ کی بیٹی بھی جون میں خسرے سے انتقال کرگئی۔ بچی کو ہنگامی مہم کے تحت اپریل میں ویکسین لگائی جاسکتی تھی، کیونکہ اس مہم میں ویکسین لگوانے کی کم از کم عمر نو ماہ سے کم کرکے چھ ماہ کردی گئی تھی۔ بچی کے والد کے مطابق کوئی بھی صحت کا کارکن ہمیں بتانے نہیں آیا۔
بنگلادیش کے محکمہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق بچوں کی ویکسینیشن میں کمی کے ساتھ صحت کے عملے کی بھی قلت ہے۔ ملک میں صحت کے کارکنوں کی تقریباً ایک تہائی آسامیاں خالی ہیں، جبکہ بچوں کی بڑی تعداد کا سرکاری ریکارڈ بھی موجود نہیں۔ستمبر کے آخر میں حکومت نے ان 34 لاکھ بچوں کو ویکسین لگانے کے لیے نئی مہم شروع کی جو پہلے رہ گئے تھے۔ وزیر صحت سردار محمد سخیوت حسین نے کہا کہ ہم دیہات میں لوگوں کو اس مہم میں شامل کریں گے تاکہ کوئی بچہ محروم نہ رہ جائے۔
عالمی ادارہ صحت کے بنگلادیش میں نائب نمائندے ڈاکٹر راجیش ناروال نے کہا کہ ادارہ حکومت کے ساتھ مل کر ہر خطرے سے دوچار بچے کو ویکسین لگانے کے مقصد کے حصول کے لیے کام کررہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ معمول کی ویکسینیشن کو زیادہ مؤثر اور مضبوط بنانا ہوگا تاکہ مستقبل میں ایسی خامیاں پیدا نہ ہوں۔
ماہرین کے مطابق بنگلادیش کا تجربہ واضح کرتا ہے کہ ویکسینیشن میں معمولی کمی بھی خطرناک وبا کا سبب بن سکتی ہے، خصوصاً ان علاقوں میں جہاں بچوں کو بروقت طبی سہولتیں اور حفاظتی ٹیکے میسر نہیں ہوتے۔
Leave A Comment