تازہ ترین

ترکی کے شہر استنبول میں شدید بارشوں کے باعث سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی، جس کے نتیجے میں دو افراد جاں بحق جبکہ متعدد علاقوں میں سڑکیں زیرِ آب آگئیں اور گاڑیاں پانی میں ڈوب گئیں۔ استنبول کے گورنر داود گل کے مطابق شہر میں گزشتہ 84 برس کے دوران ہونے والی شدید ترین بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔جاں بحق ہونے والوں میں 14 سالہ لڑکا بھی شامل ہے، جو پانی سے بھرے گڑھے میں قدم رکھنے کے بعد بجلی کا کرنٹ لگنے سے جان کی بازی ہار گیا۔ دوسرا واقعہ 34 سالہ شخص کے ساتھ پیش آیا، جو سڑک عبور کرتے ہوئے پھسل کر گر گیا اور اس کا سر فٹ پاتھ سے ٹکرانے کے باعث وہ جاں بحق ہوگیا۔ حکام نوعمر لڑکے کی ہلاکت کے واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

شہر کے ڈپٹی میئر نوری اصلان کے مطابق سیلابی پانی میں پھنسے 595 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے، جبکہ امدادی سرگرمیوں اور نکاسی آب کے لیے 8 ہزار سے زائد کارکن کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے شہریوں کو متوقع شدید بارش اور طوفان کے پیش نظر احتیاط برتنے اور غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نہ نکلنے کی ہدایت کی ہے۔

ترک وزیر داخلہ کے مطابق استنبول کے بعض علاقوں میں ہونے والی بارش کی مقدار شہر کی سالانہ اوسط بارش کے تقریباً ساتویں حصے کے برابر ہے۔ بارشوں کا سلسلہ جاری رہنے کے خدشے کے باعث جمعرات اور جمعہ کو اسکول بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

شدید بارشوں نے ٹریفک اور فضائی سفر کو بھی متاثر کیا ہے۔ 46 طیارے استنبول کے ہوائی اڈوں پر لینڈنگ نہیں کرسکے۔ ساریئر ضلع میں ایک شاپنگ سینٹر کی پارکنگ میں پانی بھرنے سے کئی گاڑیاں ڈوب گئیں، جبکہ مختلف علاقوں میں سڑکوں کے حصے دھنسنے اور دریا میں طغیانی کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

انتظامیہ نے شہریوں کو ذاتی گاڑیوں کے بجائے پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرنے کا مشورہ دیا ہے، جبکہ میٹرو سروس کے اوقات مقامی وقت کے مطابق رات 2 بجے تک بڑھا دیے گئے ہیں۔ وزارت داخلہ نے ترکی کے دیگر صوبوں میں بھی اچانک سیلاب آنے کے خدشات سے خبردار کیا ہے۔

 

 

Leave A Comment

Advertisement