آبنائے ہرمز کے ممنوعہ روٹ پر بحری جہاز بارودی سرنگ سے ٹکرانے کے بعد ڈوب گیا: ایران
پاسدارانِ انقلاب کی نیول فورس نے آبنائے ہرمز میں بدھ کی صبح ایک کنٹینر بردار بحری جہاز کے سمندر برد ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ جہاز غیر مجاز اور خطرناک راستے سے گزرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ پاسدارانِ انقلاب نے ایک بیان میں کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں ایک کنٹینر بردار جہاز بحری میں بارودی سرنگ سے ٹکرانے کے بعد آگ لگ گئی، جس کے بعد وہ سمندر میں ڈوب گیا۔پاسدرانِ انقلاب نے جہاز پر ممنوعہ سامان کی ترسیل کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جہاز آبنائے ہرمز میں ایران کے متعین کردہ روٹ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غیر مجاز راستے سے گزرنے کی کوشش کر رہا تھا۔مذکورہ جہاز تقریباً ڈھائی ہزار کنٹینرز سے لدا ہوا تھا۔ تاہم جہاز کی شناخت، اس پر موجود سامان کی نوعیت یا واقعے میں کسی جانی نقصان کے بارے میں مزید تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔
گزشتہ روز ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی نیول فورس کے کمانڈر ریئر ایڈمرل علی عظمیٰ ای نے آبنائے ہرمز پر کنٹرول کے امریکی دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس اہم سمندری گزرگاہ پر ایران کا مؤثر کنٹرول ہے۔علی عظمیٰ نے سمندری راستوں پر کنٹرول سے متعلق ایران کی پالیسی کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے کے خواہش مند جہازوں کے لیے ایرانی فورسز سے اجازت لینا ضروری ہے اور بحری جہازوں کو اس راستے سے گزرنے کی اجازت حالات کو دیکھتے ہوئے دی جاتی ہے۔انہوں نے امریکی افواج کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ جاننا چاہتے ہیں کہ اس آبی گزرگاہ پر کس کا کنٹرول ہے تو اس کی افواج آبنائے ہرمز کے داخلی راستے کے قریب آ کر دکھائے۔
علی عظمیٰ ای نے ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں کہا کہ ایران امریکی جنگی جہازوں کو ڈبونے کے لیے بے تاب ہے اور اس موقع کا انتظار کر رہا ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایرانی فوج امریکا کے 13 ارب ڈالر مالیت کے ایک جنگی جہاز کو پہلے ہی ناکارہ بناچکی ہے، جس کی وجہ سے امریکی فوج اس جہاز کو آبنائے ہرمز سے 700 کلومیٹر دور لے جانے پر مجبور ہوگئی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم اس انتظار میں ہیں کہ امریکی جہاز آبنائے ہرمز کے داخلی راستے کے قریب آئیں تاکہ انہیں ڈبو سکیں۔