بلغاریہ : ساحلی علاقے میں ڈرون حملہ، تجارتی جہاز ڈوب گیا، 11 افراد لاپتہ
بحیرۂ اسود میں بلغاریہ کے ساحل کے قریب ڈرون حملے میں مال بردار جہاز ڈوبنے کے بعد عملے کے 5 افراد کو بچا لیا گیا ہے جب کہ 11 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ بلغاری حکام کے مطابق گزشتہ رات ایک اور مال بردار جہاز پر بھی ڈرون حملے ہوئے تھے۔ ان واقعات کے بعد بلغاریہ نے روسی سفیر کو طلب کر لیا ہے جب کہ روس کی جانب سے تاحال ان واقعات پر کوئی فوری ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔مال بردار جہاز کراپیٹس نامی ساحلی گاؤں کے قریب ڈوبا۔ بلغاریہ کی صدر ایلیانا یوٹوا نے جہاز کی شناخت گنی بساؤ کے پرچم تلے سفر کرنے والے ’ایچ ایس ڈگنٹی‘ کے طور پر کی ہے۔ عملے کے لاپتہ ارکان کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
بلغاری حکام کے مطابق، گزشتہ رات مالٹا کے پرچم تلے سفر کرنے والے ایک اور مال بردار جہاز ’چیلسی 3‘ پر بھی تین ڈرونز حملے ہوئے تھے۔ اس جہاز پر عملے کے 15 ارکان سوار تھے، جن میں سات یوکرینی اور آٹھ آذربائیجانی شہری شامل تھے۔ حکام کے مطابق حملے کے بعد تمام افراد کو بحفاظت بچا لیا گیا تھا۔
گزشتہ ہفتے بھی بحیرۂ اسود میں بلغاریہ کے ساحلی علاقے میں ایک بحری جہاز ڈرون حملے کے بعد ڈوب گیا تھا۔ اس واقعے میں 9 شامی اور ایک مصری شہری لاپتہ ہوئے تھے، جن کے سمندر میں ڈوبنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا۔ اس حملے کی رات ایک دوسرے جہاز کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا، تاہم وہ جہاز کسی بڑے نقصان سے محفوظ رہا تھا۔
بلغاریہ کے وزیراعظم رومین رادیف نے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بلغاریہ کی سمندری حدود کے قریب تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانا ناقابلِ قبول ہے۔ انہوں نے روس پر براہِ راست الزام عائد نہیں کیا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ ان حملوں سے روس کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔