حوثی حملوں کے بعد ریاض آنے اور جانے والی تقریباً 300 پروازیں منسوخ، متعدد عالمی فضائی کمپنیوں نے سروس معطل کردی
فضائی سفر کے اعداد و شمار فراہم کرنے والے ادارے سیریم کے مطابق، جمعرات کو ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے طے شدہ 378 پروازوں میں سے 169 منسوخ ہوئیں یا آپریٹ نہ ہوسکیں، جو مجموعی روانگیوں کا تقریباً 45 فیصد بنتی ہیں۔ اسی طرح ایئرپورٹ پر آنے والی 369 طے شدہ پروازوں میں سے 124 منسوخ ہوئیں یا آپریٹ نہ ہوسکیں۔ اس طرح آنے اور جانے والی پروازوں کی مجموعی تعداد 293 ہوگئی، جو ایئرپورٹ کی طے شدہ پروازوں کا تقریباً 39 فیصد ہے۔ سعودی عرب کی قومی فضائی کمپنی سعودی ایئرلائنز سب سے زیادہ متاثر ہوئی، جس کی 140 طے شدہ روانگیوں میں سے 97 جبکہ 136 آمد کی پروازوں میں سے 87 منسوخ ہوئیں یا آپریٹ نہ ہوسکیں۔ سعودی عرب کی نئی فضائی کمپنی ریاض ایئر کی 15 طے شدہ روانگیوں میں سے 2 پروازیں بھی متاثر ہوئیں۔
دیگر بین الاقوامی فضائی کمپنیوں میں ترکش ایئرلائنز کی ریاض سے روانگی اور وہاں آمد کی تمام 4 طے شدہ پروازیں منسوخ ہوئیں۔ ایئر انڈیا ایکسپریس، سری لنکن ایئرلائنز، فلپائن ایئرلائنز، یمنیہ اور ای جیٹ بھی متاثر ہونے والی کمپنیوں میں شامل ہیں۔رپورٹ مرتب کیے جانے کے وقت ریاض ایئرپورٹ کا تعطل انڈیکس 4.1 تھا، جسے بڑے پیمانے پر مسائل کی علامت قرار دیا گیا۔ ایئرپورٹ پر 111 پروازیں تاخیر کا شکار ہوئیں، جو مجموعی پروازوں کا 16 فیصد تھیں، جبکہ 103 پروازیں، یعنی 15 فیصد، منسوخ ہوئیں۔