میرے لیے کپتانی زیادہ مسئلہ نہیں، ڈومیسٹک کرکٹ میں کپتانی کر چکا ہوں؛صاحبزادہ فرحان
پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان صاحبزادہ فرحان نے کہاہے کہ پہلی بار بطور کپتان اپنے ملک کی نمائندگی کروں گا، میری کپتانی دیکھ کر شائقینِ کرکٹ کو مزہ آئے گا،انہوں نے کہا ہےکہ کپتانی کا پریشر ضرور ہوتا ہے، میرے لیے کپتانی زیادہ مسئلہ نہیں، ڈومیسٹک کرکٹ میں کپتانی کر چکا ہوں۔
پاکستان اور سری لنکا کے درمیان ٹی ٹوینٹی سیریز کی ٹرافی کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے صاحبزادہ فرحان کا کہنا تھا کہ ساتھی کھلاڑیوں کو مثبت پیغام دینے کے لیے کپتان کو انفرادی کارکردگی بہتر دینی پڑتی ہے، پاکستان کے ٹی ٹوئنٹی سکواڈ میں جونیئر اور سینئر کھلاڑیوں کا کمبینیشن ہے،سینئر کھلاڑیوں کی موجودگی سے بطور کپتان بھی مجھے مدد ملے گی۔ میں نے کبھی کپتانی کا نہیں سوچا تھا،والد نے دعا دی تھی کہ ایک دن پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان بنو گے،والدین کی دعائیں رنگ لاتی ہیں، سرفراز احمد کی کپتانی بہت پسند ہے،سری لنکا سیریز کے بعد ٹی ٹوئنٹی میچز کی تعداد کم ہے۔ انٹرنیشنل کرکٹ میں چھوٹی اور بڑی ٹیمیں نہیں ہوتیں، چھوٹی ٹیموں پر بھی پریشر ہوتا ہے، انٹرنیشنل کرکٹ آسان نہیں ہوتی۔
ون ڈے سیریز کے لیے بھی قومی کھلاڑیوں کی اچھی پریکٹس ہو جائے گی، میری خواہش ہے کہ ٹی ٹوئنٹی کے مائنڈ سیٹ کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹاپ آرڈر بیٹنگ کرے، پاکستان کا ٹاپ آرڈر میری طرح جارحانہ انداز میں ہی بیٹنگ کرتا ہے۔ پاکستان کا ٹاپ آرڈر دائیں اور بائیں ہاتھ کے بیٹرز پر مشتمل ہوگا،سلیکشن کمیٹی کا کام اسکواڈ تشکیل دینا ہے،میں کپتان ہوں، مجھے زیادہ سکواڈ کا معلوم نہیں تھا، مجھے 15 ارکان پر مشتمل بہترین اسکواڈ دیا گیا ہے۔
پاکستان میں بیٹنگ کے لیے سازگار کنڈیشنز ملیں گی، دو سپنرز اور تین فاسٹ باؤلرز کے ساتھ کھیلیں گے،کرکٹ کیریئر کے دوران کانٹوں پر چلنا مجھے آتا ہے،میں یہ نہیں سوچ رہا کہ مجھے مستقبل میں کپتانی ملے گی یا نہیں،جب تک کپتانی دی گئی ہے، مختلف طریقوں سے پاکستان کو میچز جتوانا چاہتا ہوں، راولپنڈی میں کراؤڈ ہمیشہ آتا ہے،کراؤڈ نہیں آتا تو ہمیں بھی مزہ نہیں آتا، بابر اعظم اور محمد رضوان دنیا کے بہترین کھلاڑی ہیں،بابر اعظم اور محمد رضوان کبھی بھی ٹی ٹوئنٹی میں آ سکتے ہیں۔
Leave A Comment