تازہ ترین

پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان چوتھے اقتصادی جائزہ مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے،حکومت نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کا پلان اور ٹائم لائن بھی آئی ایم ایف سے شیئر کردی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پہلےمرحلےمیں فیسکو،گیپکو اورآئیسکوکی نجکاری مارچ 2027 تک مکمل کرنےکامنصوبہ ہے،فیسکوکی نجکاری جنوری،گیپکوکی فروری اورآئیسکو کی مارچ 2027 میں متوقع ہے،حیدرآباد اور سکھر الیکٹرک سپلائی کمپنیوں کی نجکاری اپریل سے جون 2027 جبکہ پشاور،ہزارہ، لاہور اور ملتان ڈسکوزکی نجکاری دسمبر 2027 تک مکمل کرنے کا ہدف مقررکیاگیا،کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی نجکاری کے منصوبے میں شامل نہیں۔

آئی ایم ایف نےبجلی کےشعبےمیں ایک ہزار 675 ارب روپےکےگردشی قرضےپر تحفظات کا اظہارکیااور 200 یونٹ تک بجلی صارفین کے لیے کراس سبسڈی ختم کرنےکا مطالبہ کیا،حکومت کی جانب سے جنوری 2027 سے 200 یونٹ تک صارفین کو بی آئی ایس پی کے ذریعے ٹارگٹڈ سبسڈی دینےکی تجویز زیر غور ہے۔  حکومت نےمالی سال 2026-27 کے لیے بجلی کےشعبے میں 830 ارب روپے کی سبسڈی مختص کر رکھی ہے۔ گزشتہ مالی سال 10 ڈسکوز نے 299 ارب روپے کا نقصان کیا جبکہ انہیں 551 ارب روپے کی سبسڈی دی گئی، یوں ڈسکوز پر مجموعی سالانہ مالی بوجھ 850 ارب روپے تک پہنچ گیا۔

آئی ایم ایف نےڈسکوز کی نجکاری کے مجوزہ طریقہ کار پر بھی سوالات اٹھائے ہیں،حکومت نجکاری کے بعد بھی ملک بھرمیں یکساں بجلی ٹیرف برقرار رکھنے کا ارادہ رکھتی ہے،جس کے تحت مؤثر ڈسکوز کے صارفین بھی کمزور کمپنیوں کے نقصانات کا بوجھ اٹھائیں گے۔حکومت ڈسکوز کے پرانےاربوں روپے کےواجبات الگ کرکے سپیشل پرپز وہیکل میں منتقل کرنےکا منصوبہ بھی رکھتی ہے،فریقین میں اتفاق رائے نہ ہونے کی صورت میں اسٹاف لیول معاہدے کے لیےورچوئل مذاکرات ہوں گے،آئی ایم ایف جائزہ مشن آئندہ چند روز میں پاکستان سے واپس روانہ ہوجائے گا۔

 

Leave A Comment

Advertisement