تازہ ترین

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں امریکا اور اسرائیل کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی عوام دہشت گردی کا نشانہ بنے۔ انہوں نے امریکی حملوں، اسکول پر بمباری اور ایرانی شہریوں کی ہلاکتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے صرف اپنا دفاع کیا اور اس کے باوجود جھکا نہیں۔

مسعود پزشکیان نے خطاب کے آغاز میں ایران پر ہونے والے حملوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایسے ایران سے آئے ہیں جہاں ایک اسکول پر بمباری کی گئی۔ انہوں نے شہید بچوں کی تصاویر جنرل اسمبلی میں دکھائیں اور کہا کہ ان بچوں نے کوئی جرم نہیں کیا تھا۔ امریکا اور اسرائیل نے ان بچوں کو قتل کیا، جب کہ امریکا نے ایران کی خواتین، بچوں، مردوں اور سائنس دانوں کو بھی نشانہ بنایا۔ ان کے مطابق یہ معصوم شہری بزدلانہ حملوں کا شکار ہوئے۔ ہم دہشت گرد نہیں ہیں، ہم نے اپنا دفاع کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا نے جدید ہتھیاروں اور ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، اس کے باوجود ایران نہیں جھکا اور اس نے اپنا سر خم نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے اپنا دفاع کیا اور کبھی خواتین اور بچوں پر حملہ نہیں کیا۔

غزہ کی صورتِ حال پر بات کرتے ہوئے ایرانی صدر نے کہا کہ اسرائیل نے غزہ میں ایک دہشت گرد کی طرح کارروائیاں کیں اور وہاں نسل کشی کررہا ہے۔ غزہ کی صورتِ حال بین الاقوامی میکانزم کی ناکامی ہے اور فلسطین میں انصاف کے بغیر امن ممکن نہیں۔ ان کے مطابق غزہ میں لوگ مزاحمت کررہے ہیں اور اس مزاحمت کو بموں اور حملوں سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ اپنا دفاع کرنے والوں کو دہشت گرد کہا جاتا ہے، جب کہ بین الاقوامی طاقتوں کے ذریعے پڑوسی ممالک کو خوفزدہ نہیں کیا جا سکتا۔ ایران خطے میں عدم استحکام کی وجہ نہیں ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ 400 سال سے ایران نے صرف اپنا دفاع کیا ہے

ایران کو مضبوط ہونا ہے اور وہ اپنی سیکیورٹی دوسروں کی عدم سیکیورٹی میں نہیں دیکھتا۔ ان کا کہنا تھا کہ اپنے ملک کے دفاع کے لیے ایران کو کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں۔

جوہری پروگرام کے بارے میں ایرانی صدر نے کہا کہ ایران کو اپنی ترقی کے لیے پرامن نیوکلیئر انرجی درکار ہے اور وہ اپنے حق سے دستبردار نہیں ہوگا۔انہوں نے واضح کیا کہ ایران کے پاس کوئی نیوکلیئر ہتھیار نہیں ہوگا، تاہم پرامن مقاصد کے لیے اس کا جوہری پروگرام جاری رہے گا۔

 

 

Leave A Comment

Advertisement