جوہری ہتھیاروں کا معاہدہ ختم کرکے علی الاعلان تجربات کریں؛ ایرانی پارلیمان کا حکومت سے مطالبہ
ایران میں جوہری پروگرام سے متعلق پارلیمانی بحث ایک نئے اور غیر معمولی مرحلے میں داخل ہوگئی۔ ایرانی پارلیمان نے حکومت سے جوہری عدم پھیلاؤ کے عالمی معاہدے (NPT) سے مکمل طور پر دستبردار ہونے کا مطالبہ کر دیا ہے.ایرانی رکنِ پارلیمنٹ حسین علی حاجی دلیگانی نے کہا ہے کہ این پی ٹی سے دستبرداری کے مطالبے پر مبنی ایک تین ہنگامی سطح کا بل تیار کر کے متعدد ارکان سے دستخط بھی کروا لیے ہیں۔ اگر پارلیمنٹ کے پریزائیڈنگ بورڈ کی جانب سے بل کی منظوری دے دی جاتی ہے تو اس پر ایوان میں ووٹنگ ہو سکتی ہے۔
جوہری ہتھیاروں کے تجربات کا مطالبہ
رکنِ پارلیمنٹ حسین علی حاجی دلیگانی نے صرف این پی ٹی سے دستبرداری تک مطالبہ محدود نہیں رکھا بلکہ کہا کہ ایران کو جوہری ہتھیار کی تیاری کے لیے ضروری تجربات جلد از جلد کرنے چاہییں۔انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ موجودہ علاقائی اور بین الاقوامی صورتحال میں ایران کے لیے ’’ایٹمی بازدار قوت‘‘ کا حصول ناگزیر ضرورت بن چکا ہے۔ان بیانات نے ایران کی پارلیمنٹ میں جوہری ہتھیاروں سے متعلق اُس روایتی احتیاط کو نمایاں طور پر چیلنج کیا ہے جس کے تحت ایرانی حکام عمومی طور پر جوہری ہتھیار بنانے کے بجائے اپنے پروگرام کو پُرامن مقاصد اور جوہری توانائی تک محدود قرار دیتے رہے ہیں۔
این پی ٹی پر بھی سوالات
ایرانی پارلیمنٹ میں این پی ٹی سے دستبرداری کی آواز صرف ایک رکن تک محدود نہیں رہی۔قومی سلامتی کمیشن کے رکن محسن سانی نے بھی کہا ہے کہ این پی ٹی اب ایران کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتا۔ انہوں نے ملک کی یورینیم افزودگی کی پالیسی پر بھی نظرِ ثانی کرنے کی تجویز دی۔ایک اور رکنِ پارلیمنٹ، فدا حسین مالکی، کے مطابق ارکان پر این پی ٹی سے دستبرداری کی منظوری کے لیے دباؤ موجود ہے۔