تازہ ترین

چین کی سرکاری توانائی کمپنی  نے مشرق وسطیٰ کے تنازع، خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور ملکی سطح پر ایندھن کی کمزور طلب کے باوجود 2026 کی پہلی ششماہی میں منافع میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا ہے۔ کمپنی نے شنگھائی اسٹاک ایکسچینج میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں بتایا کہ جنوری سے جون کے دوران چینی اکاؤنٹنگ معیارات کے تحت خالص منافع 25.63 ارب یوآن رہا، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے 21.48 ارب یوآن کے مقابلے میں 19.3 فیصد زیادہ ہے۔تاہم تیل کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ کے باعث کمپنی کو تقریباً 16 ارب یوآن کے اثاثہ جاتی نقصانات کے لیے بھی رقم مختص کرنا پڑی۔دنیا کے سب سے بڑے ریفائنر Sinopec کے لیے مشرق وسطیٰ کی صورتحال خاص طور پر اہم ہے کیونکہ اس کی خام تیل کی ضروریات کا تقریباً نصف خطے سے پورا ہوتا ہے۔ آبنائے ہرمز میں سپلائی بحران نے کمپنی کے لیے خام تیل کی خریداری کو مزید مشکل بنا دیا۔اس کے باوجود کمپنی نے خام تیل کے حصول کے ذرائع میں تبدیلی اور خریداری کے اوقات کو مارکیٹ کی صورتحال کے مطابق ایڈجسٹ کرکے دباؤ کم کرنے کی کوشش کی۔ جنوری سے جون کے دوران Sinopec نے گزشتہ سال کے مقابلے میں 5.6 فیصد کم خام تیل پراسیس کیا، جو 113.31 ملین میٹرک ٹن یا تقریباً 4.57 ملین بیرل یومیہ بنتا ہے۔کمپنی کے ریفائننگ مارجن میں بھی 44.1 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 453 یوآن فی میٹرک ٹن تک پہنچ گیا۔ ریفائننگ شعبے کے آپریٹنگ منافع میں حیران کن طور پر 381.5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

Sinopec کی انتظامیہ کے مطابق بین الاقوامی خام تیل کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ اور درآمدی خام تیل کی لاگت میں نمایاں اضافے کے باوجود کمپنی نے پیداوار اور آپریشنز میں بروقت تبدیلیاں کیں اور مختلف چیلنجز کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا۔

Leave A Comment

Advertisement