تازہ ترین

پولیس نے 2 لڑکیوں کو ایک نوجوان پر تیزاب پھینکنے کے الزام میں گرفتار کر لیا۔ پولیس کا کہنا ہے ان میں سے ایک لڑکی نے نوجوان کو بلایا اور اسے موٹر سائیکل پر قریبی گاؤں رنگ پور چلنے کو کہا، جب موٹر سائیکل ایک ویران جگہ پہنچی تو پیچھے بیٹھی لڑکی نے اپنے پرس سے تیزاب کی بوتل نکال کر نوجوان پر پھینکی اور موقع سے فرار ہو گئی۔متاثرہ نوجوان، جو روزگار کے سلسلے میں ملائشیا میں مقیم تھا اور تقریباً ڈیڑھ ماہ قبل پاکستان آیا تھا، نے لڑکی کے خلاف تھانہ صدر قصور میں ایف آئی آر درج کرائی۔پولیس کو دی گئی درخواست میں نوجوان نے کہا کہ پیر کے روز وہ اپنے دوستوں کیساتھ 2 موٹر سائیکلوں پر سوار ہو کر چائے پینے کے لیے جارہے تھے کہ رنگ پور کے نزدیک اچانک سامنے سے ایک موٹر سائیکل آئی جس پر ملزمہ اور اس کا نامعلوم ساتھی سوار تھے، ملزمہ نے ہاتھ میں پکڑی بوتل سے میرے اوپر تیزاب پھینکا جو میرے سر، چہرہ اور آنکھوں پر آکر گرا، میری آنکھیں دھندلی ہو گئیں۔ جب وہ موٹر سائیکل سے گرا تو ملزمہ نے اس کی جیب سے 60 ہزار روپے، کاغذات وغیرہ اور آدھا تولہ وزنی طلائی چین بھی نکال لی۔ایف آئی آر کے مطابق جناح ہسپتال کے ڈاکٹرز نے علاج کے دوران نوجوان کو بتایا کہ ان آنکھوں کی جھلی متاثر ہو گئی ہے۔متاثرہ نوجوان نے الزام لگایا ہے کہ ملزمہ نے اس پر تیزاب اس کی سابقہ بیوی کی ایما پر پھینکا جسے نوجوان نے طلاق دے دی تھی۔

ملزمہ کے اہل خانہ نے بتایا کہ مضروب نوجوان اپنی بیوی کو طلاق دینے کے بعد اب ہماری لڑکی کو شادی کرنے کے لیے تنگ کررھا تھا۔ لگاتار میسجز کرنے، اور بار بار راستہ روکنے سمیت دیگر حرکات سے تنگ آ کر ہماری لڑکی نے اپنی دوست اور نوجوان کی سابقہ بیوی کیساتھ مل کر اس پر تیزاب پھینک دیا۔ہماری لڑکی کو کوئی پچھتاوا نہیں بس اس نے حالات سے تنگ آکر انتہائی قدم اٹھایا۔

Leave A Comment

Advertisement