لاہور : غیرملکی خواتین اغواء زیادتی کیس؛ رضا ڈار سمیت گرفتار ملزمان کا مزید 5 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور
لاہور کے تھانہ ڈیفنس سی کے علاقے میں غیرملکی خواتین کے اغواء اور اجتماعی زیادتی کے مقدمے میں کینٹ کچہری کی عدالت نے اہم ترین ملزم اور ڈپٹی پرائم منسٹر اسحاق ڈار کے نواسے رضا ڈار سمیت گرفتار ملزمان کا مزید 5 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا، عدالت نے انویسٹی گیشن ٹیم کو حکم دیا ہے کہ ملزمان کو اگلی سماعت 13 جولائی کو دوبارہ عدالت کے سامنے پیش کیا جائے۔
تھانہ ڈیفنس سی کی انویسٹی گیشن ٹیم ملزمان کا سابقہ 5 روزہ جسمانی ریمانڈ جو عدالت نے 3 جولائی کو منظور کیا تھا ختم ہونے پر انہیں کینٹ کچہری لے کر پہنچی، پولیس نے کارروائی کے دوران تمام ملزمان کے چہروں پر ماسک پہنا رکھے تھے، اس ہائی پروفائل کیس میں اسحاق ڈار کے نواسے رضا ڈار سمیت اب تک کل 8 ملزمان کو پولیس گرفتار کر چکی ہے۔
عدالت میں ملزم ساجد اور سکندر کے وکیل محمد سلمان شاہد نے اپنے دلائل پیش کرتے ہوئے پولیس اور تفتیشی نظام پر سنگین سوالات اٹھائے، وکیل کا کہنا تھا کہ ان کے موکلان ساجد اور سکندر کا اس کیس سے کوئی تعلق نہیں ہے، ملزمان ساجد اور سکندر کے خاندان میں کوئی وزیر یا مشیر نہیں ہے، اسی لیے ہم اس کیس کا نشانہ بن رہے ہیں، ان خواتین کو پاکستان کس نے بلایا تھا؟ یہ کس کے کہنے پر آئی تھیں؟ کیا یہ ساجد اور سکندر کے کہنے پر آئی تھیں؟ ان کو جس نے بلایا اسے تو پولیس پروٹوکول دے رہی ہے لیکن ساجد اور سکندر کو زبردستی مقدمے میں گھسیٹا جا رہا ہے، ہم چاہتے ہیں سب کے ساتھ برابری کا سلوک ہو۔ گینگ کے کردار 'باس' کو پولیس عدالت میں کیوں پیش نہیں کر رہی؟ موبائل فونز ریکور ہو چکے ہیں، ان خواتین نے ساجد اور سکندر کا نام تک نہیں لیا، بااثر ملزمان تو کرپٹو کا کام کرتے ہیں، کیا رضا ڈار کا ڈی این اے میچ نہیں ہوا؟ کیا انہوں نے مبینہ زیادتی نہیں کی؟ اگر پولیس عدالت میں متاثرہ خواتین کا دفعہ 164 کا بیان سامنے لا سکتی ہے تو پھر ملزمان کی ڈی این اے رپورٹ بھی سامنے لائی جائے۔
وکیل کے دلائل مکمل ہونے کے بعد جج نے تھانہ ڈیفنس سی کے انویسٹی گیشن انچارج عبدالرحمان سے ان کا مؤقف طلب کیا، جس پر انچارج عبدالرحمان نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان کے ڈی این اے ٹیسٹ، ایل ایف ٹی اور فنگر پرنٹس کروا لیے گئے ہیں، موبائل فونز کو بھی تفصیلی فرانزک کے لیے بھجوا دیا گیا ہے، جب عدالت نے انچارج سے پوچھا کہ گینگ کا کردار 'باس' اس وقت کہاں ہے؟ تو انچارج انویسٹی گیشن نے بتایا کہ ملزم 'باس' اس وقت ہمارے پاس نہیں بلکہ تھانہ ہیئر پولیس کی تحویل میں ہے، اسے تھانہ ہیئر کی پولیس ٹیم نے گرفتار کیا اور وہی ٹیم اب 'باس' کو عدالت میں پیش کرے گی۔