تازہ ترین

مارکیٹ میں سبزیوں اور پھلوں کی سرکاری قیمتوں پر عملدرآمد نہ ہو سکا، جہاں متعدد اشیائے خورونوش مقررہ نرخوں سے کہیں زیادہ قیمت پر فروخت کی جا رہی ہیں، جس کے باعث شہری اضافی مالی بوجھ برداشت کرنے پر مجبور ہیں۔

سرکاری نرخ نامے کے مطابق آلو کی قیمت 40 روپے فی کلو مقرر ہے، تاہم بازار میں یہ 60 روپے فی کلو فروخت ہو رہا ہے۔ اسی طرح پیاز کی سرکاری قیمت 100 روپے جبکہ اوپن مارکیٹ میں 150 روپے فی کلو وصول کیے جا رہے ہیں۔ ٹماٹر کی سرکاری قیمت 190 روپے مقرر ہونے کے باوجود 250 روپے فی کلو فروخت کیا جا رہا ہے۔لہسن کا سرکاری نرخ 235 روپے فی کلو ہے، لیکن مختلف بازاروں میں یہ 450 روپے تک فروخت ہو رہا ہے، جبکہ ادرک کی سرکاری قیمت 350 روپے کے مقابلے میں 400 روپے فی کلو وصول کیا جا رہا ہے۔بھنڈی کی سرکاری قیمت 90 روپے کے بجائے 120 روپے، کریلا 70 روپے کے بجائے 100 روپے، جبکہ ٹینڈے 105 روپے کے بجائے 120 روپے فی کلو فروخت کیے جا رہے ہیں۔

 

 

 

پھلوں کی قیمتوں میں بھی واضح فرق دیکھا گیا۔ کچے آم کی سرکاری قیمت 40 روپے فی کلو مقرر ہے، تاہم بازار میں 90 روپے فی کلو فروخت کیے جا رہے ہیں۔ سندھڑی آم (اول) کی سرکاری قیمت 270 روپے کے مقابلے میں 350 روپے، جبکہ عام سندھڑی آم 230 روپے کے بجائے 290 روپے فی کلو فروخت ہو رہے ہیں۔ دوسہری آم کی سرکاری قیمت 220 روپے ہے، لیکن بازار میں اس کی قیمت 260 روپے فی کلو وصول کی جا رہی ہے۔ تربوز کی سرکاری قیمت 40 روپے کے مقابلے میں 60 روپے فی کلو، آڑو 190 روپے کے بجائے 250 روپے فی کلو، سیب 355 روپے کے مقابلے میں 400 روپے فی کلو جبکہ کیلا 150 روپے فی درجن کے بجائے 200 روپے فی درجن فروخت کیا جا رہا ہے۔

 

 

 

 

Leave A Comment

Advertisement