تازہ ترین

شہر میں سرکاری نرخنامے کے باوجود روٹی مقررہ قیمت پر دستیاب نہ ہو سکی، جبکہ متعدد علاقوں میں روٹی 20 روپے میں فروخت کی جا رہی ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ سرکاری نرخ اور مارکیٹ میں وصول کی جانے والی قیمتوں کے درمیان واضح فرق نے عوام کو پریشانی میں مبتلا کر رکھا ہے۔ ان کے مطابق انتظامیہ کی جانب سے مقرر کردہ نرخوں پر عملدرآمد دکھائی نہیں دیتا۔شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ یا تو سرکاری نرخنامے پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے یا پھر قیمتوں کا ازسرِ نو جائزہ لے کر واضح پالیسی مرتب کی جائے تاکہ عوام اور تندور مالکان کے درمیان پیدا ہونے والی بے چینی کا خاتمہ ہو سکے۔

 نانبائیوں کا مؤقف ہے کہ آٹے، گیس اور دیگر پیداواری اخراجات میں اضافے کے باعث 14 روپے میں روٹی فروخت کرنا ممکن نہیں رہا۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں روٹی کی تیاری اور فروخت پر آنے والی لاگت سرکاری نرخ سے کہیں زیادہ ہے۔نانبائیوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ زمینی حقائق اور بڑھتے ہوئے اخراجات کو مدنظر رکھتے ہوئے روٹی کا نیا سرکاری نرخ 20 روپے مقرر کیا جائے تاکہ نانبائیوں اور صارفین دونوں کے لیے یکساں اور قابلِ عمل نظام وضع کیا جا سکے۔ 

 

Leave A Comment

Advertisement