یورپی ایئرلائنز کے بعد میڈیا اداروں کو بم سے اڑانے کی دھمکیاں موصول
آئرلینڈ کے میڈیا اداروں کی جانب سے بم سے اڑانے کی دھمکیاں موصول ہونے کی تصدیق کے بعد برطانوی میڈیا گروپ ’اسکائی‘ نے بھی دھمکی موصول ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ رواں ہفتے یورپ بھر میں مسافر طیاروں کو بم دھماکوں کی دھمکیاں دیے جانے کے باعث فضائی سفر کا نظام بھی متاثر ہوا ہے۔یورپ کے مختلف ممالک میں رواں ہفتے بم دھماکوں کی جعلی دھمکیوں کے باعث درجنوں پروازیں اور متعدد میڈیا ادارے متاثر ہوئے ہیں۔
جمعے کو بھی یورپ کے متعدد ایئرپورٹس اور پروازوں کو سیکیورٹی خدشات کا سامنا کرنا پڑا، جب کہ آئرلینڈ کے قومی نشریاتی ادارے ’آر ٹی ای‘ نے بم کی دھمکی موصول ہونے کے بعد اپنے دفاتر خالی کرا لیے۔ برطانوی نشریاتی ادارے اسکائی سمیت دیگر میڈیا گروپس نے بھی ایسی ہی دھمکیاں ملنے کی تصدیق کی ہے۔ایک روز قبل جمعرات کو ایک درجن سے زائد پروازیں متاثر ہوئی تھیں، جن میں جمہوریہ چیک میں چار اور اٹلی میں دو پروازوں کا رخ تبدیل کرنا پڑا۔ اس سے دو روز پہلے بھی متعدد پروازوں اور ایک کروز شپ کو بم کی دھمکیاں موصول ہوئی تھیں۔
یہ واقعات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب یورپ کو ہائبرڈ حملوں میں اضافے کا سامنا ہے۔ بعض ایسے حملوں کا الزام یورپی حکام روس پر عائد کرتے رہے ہیں، تاہم تازہ دھمکیوں کے پیچھے کون ہے اور انہیں کون منظم کر رہا ہے، یہ تاحال واضح نہیں ہوسکا۔برطانوی میڈیا گروپ ’اسکائی‘ کے ماتحت ادارے اسکائی نیوز کے ایک میزبان نے نشریات کے دوران ادارے کو سیکیورٹی خطرات کی تصدیق کی۔ اسکائی نیٹ ورک نے فی الحال اس معاملے پر تبصرے سے گریز کرتے ہوئے صرف اتنا بتایا ہے کہ اس نے عملے اور ادارے کے آپریشنز کو محفوظ رکھنے کے لیے متعلقہ حکام کو معاملے سے آگاہ کردیا ہے۔اسکائی نے یہ واضح نہیں کیا کہ اسے موصول ہونے والی سکیورٹی دھمکی کا یورپی ایئرپورٹس اور پروازوں کو ملنے والی بم دھمکیوں سے کوئی تعلق تھا یا نہیں۔
اس پیش رفت سے چند گھنٹے قبل آئرلینڈ کے قومی نشریاتی ادارے ’آر ٹی ای‘ سمیت متعدد میڈیا گروپس کے دفاتر کو بم کی دھمکیاں موصول ہوئی تھیں۔جمعے کے روز بم سے اڑانے کی دھمکی موصول ہونے کے بعد آئرلینڈ میں سرکاری ٹیلی ویژن اور ریڈیو اسٹیشن ’آر ٹی ای سمیت دیگر میڈیا اداروں کے دارالحکومت ڈبلن میں واقع دفاتر کو فوری طور پر خالی کرا لیا گیا تھا۔آئرش ریڈیو نے دھمکیوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ حکام نے عمارتوں کی تلاشی لینے کے بعد ان دھمکیوں کو افواہ قرار دیا ہے جس کے بعد عملے کو عمارت میں داخلے کی اجازت اور نشریات بحال کر دی گئی ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق سرکاری ریڈیو کے ایک رپورٹر نے بتایا کہ ادارے کو مقامی وقت کے مطابق صبح 9 بجے ای میل کے ذریعے 45 منٹ کے اندر عمارت میں بم دھماکے کی دھمکی موصول ہوئی تھی۔آر ٹی ای کے رپورٹر نے نشریات کے دوران موصول ہونے والی ای میل کے بعض اقتباسات پڑھ کر سنائے، جن کے مطابق دھمکی بھیجنے والوں نے خود کو اسی گروہ سے منسلک ظاہر کیا تھا جو رواں ہفتے یورپ بھر میں مسافر پروازوں کو بم کی دھمکیاں دینے میں ملوث رہا ہے۔دھمکی آمیز ای میل موصول ہونے کے بعد سرکاری ادارے کی نشریات تقریباً ایک گھنٹہ معطل رہیں۔ بعد ازاں آئرلینڈ کے وزیراعظم مائیکل مارٹن نے ٹیلی فونک انٹرویو میں صورت حال کو تشویش ناک قرار دیتے کہا ’ان افواہوں کا مقصد خوف پیدا کرنا ہے تاہم ہم ان دھمکیوں کو انتہائی سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ’یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ معاشرے کے معمولات کو متاثر کرنا اور خوف و ہراس پھیلانا کتنا آسان ہو گیا ہے لیکن ہمیں پرسکون اور اپنے معمولات پر مکمل توجہ مرکوز رکھنے کی ضرورت ہے۔
یورپ میں گزشتہ ایک ہفتے کے دوران بم حملوں کے حوالے سے سامنے آنے والی دھمکیوں کی اس لہر کے دوران مجموعی طور پر تمام دھمکیاں غلط ثابت ہوئی ہیں اور کسی بھی مقام سے کوئی دھماکا خیز مواد برآمد نہیں ہوا، البتہ ان واقعات سے مسافروں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
پاکستان میں نیشنل سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم نے بھی مالیاتی اداروں اور اہم تنصیبات پر مصنوعی ذہانت کے ذریعے سائبر حملوں کے ممکنہ خطرات کے پیش نظر اہم ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے تمام متعلقہ اداروں کو حفاظتی اقدامات مزید سخت کرنے کی ہدایت کی ہے۔ایڈوائزری میں جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے سائبر حملوں میں تیزی کے خدشات کے حوالے سے الرٹ جاری کرتے ہوئے ہیں خاص طور پر بینکوں کے آن لائن نظام، ڈیجیٹل بینکنگ، ادائیگیوں کے نظام اور صارفین کا ذاتی و مالیاتی ڈیٹا سائبر حملہ آوروں کے نشانے پر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔