پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے نئے فارمولے پر ریفائنریوں کا احتجاج، حکومت سے نظرثانی کا مطالبہ
پاکستان کی چار بڑی آئل ریفائنریوں نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے نئے نظام پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے نظرثانی کا مطالبہ کردیا ہے۔ ریفائنریوں نے موٹر اسپرٹ (پیٹرول) کی قیمتوں کے نظرثانی شدہ طریقہ کار کو فوری واپس لینے اور سابقہ پرائسنگ فارمولا بحال کرنے پر زور دیا ہے۔
اٹک، نیشنل اور پاکستان ریفائنری سمیت چار ریفائنریوں نے وفاقی وزیر پیٹرولیم کو مشترکہ خط ارسال کیا ہے، جس میں نئے پرائسنگ میکنزم کو ریفائنریوں کے لیے مالی طور پر نقصان دہ قرار دیتے ہوئے اس پر فوری نظرثانی کی درخواست کی گئی ہے۔خط میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ قیمتوں کے نئے طریقہ کار کے باعث ریفائنریوں کو فی لیٹر 49 روپے تک نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جس سے ان کی مالی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا۔ریفائنریوں کے مطابق حکومت نے ان سے مشاورت کیے بغیر قیمتوں کا نیا نظام نافذ کیا، جو موجودہ معاہدوں اور پالیسی فریم ورک کے منافی ہے۔ عالمی مارکیٹ میں لاگت بڑھنے کے باوجود مقامی قیمتوں میں پریمیم منجمد کردیا گیا ہے، جبکہ پیٹرولیم لیوی کے ذریعے وصول ہونے والی رقم بھی اب براہ راست ریفائنریوں سے وصول کی جا رہی ہے۔
خط میں خبردار کیا گیا ہے کہ نئے پرائسنگ میکنزم کے باعث ریفائنری اپ گریڈیشن منصوبے متاثر ہوسکتے ہیں اور مستقبل میں مقامی سطح پر پیٹرول کی پیداوار میں بھی کمی کا خدشہ ہے۔ اس کے علاوہ ایندھن کی بلاتعطل فراہمی اور ریفائنریوں میں سرمایہ کاری کے منصوبوں میں تاخیر کا بھی امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
ریفائنریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ 7 مارچ 2026 کا پرائسنگ فارمولا بحال کیا جائے اور 31 اکتوبر 2026 سے پہلے نافذ قیمتوں کے نظام کو دوبارہ رائج کیا جائے۔مشترکہ خط میں پیٹرولیم ڈویژن سے فوری ملاقات کا وقت دینے کی درخواست بھی کی گئی ہے، جبکہ حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کو قیمتوں کے نئے طریقہ کار میں ضروری اصلاحات کی ہدایت کی جائے۔ریفائنریوں کا کہنا ہے کہ قیمتوں کے نظام میں مناسب اصلاحات نہ ہونے کی صورت میں مقامی پیداوار، سرمایہ کاری اور ملک میں ایندھن کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
Leave A Comment