امریکی جنگی جہاز ہرمز کے داخلی حصے اور خلیج فارس سے 500 کلومیٹر پیچھے چلے گئے، پاسداران
پاسداران انقلاب ایران نے دعویٰ کیا ہےکہ امریکی جنگی جہاز آبنائے ہرمز کے داخلی حصے اور خلیج فارس سے پانچ سو کلومیٹر پیچھے چلے گئے۔بریگیڈئیر جنرل حسین محبی کا کہنا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مسلط کردہ جنگ سے پہلے تیس سے چالیس امریکی جہاز خلیج فارس میں موجود تھے۔اب ایک بھی امریکی جہاز اس علاقے میں موجود نہیں، یہی نہیں بلکہ خلیج فارس میں فعال امریکا کے پانچویں بحری بیڑے کی کوئی چھوٹی کشتی بھی خلیج فارس میں نہیں ہے۔ اس لیے امریکی دھمکیاں یقینی شکست کو فتح ظاہر کرنے کی کوشش ہیں۔
یو ایس ایس ابراہام لنکن، جیرالڈ فورڈ اور دیگرکا حوالہ دیتے ہوئے جنرل محبی نے دعویٰ کیا کہ امریکی فوج کے پاس طویل جنگ کی صلاحیتیں نہیں، ساتھ ہی انہوں نے امریکا کو خبردار کیا کہ ایران کیخلاف کسی بھی جارحیت کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔