جنرل اسمبلی اجلاس؛ ایرانی صدر سے نیویارک میں ملاقات کا امکان موجود ہے: صدر ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے حوالے سے ایک انتہائی اہم فیصلہ کرنے والے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تہران نے اپنا رویہ تبدیل نہ کیا تو اسے سنگین اقدامات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے، ساتھ ہی انہوں نے ایرانی قیادت کی جنرل اسمبلی اجلاس کے لیے ممکنہ امریکا آمد پر اُن سے ملاقات کے امکان کو بھی رد نہیں کیا۔امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران کے حوالے سے کہا کہ وہ اس وقت ایک اہم فیصلہ کن مرحلے میں ہیں۔
فوکس نیوز سے وابستہ صحافی ٹری ینگسٹ نے فوکس نیوز کے پروگرام ’فوکس اینڈ فرینڈز‘ میں گفتگو کے دوران بتایا کہ انہوں نے حال ہی میں صدر ٹرمپ سے بات کی ہے اور اس گفتگو کی تفصیلات ناظرین کے ساتھ شیئر کیں۔صحافی ٹرے ینگسٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے تین ممکنہ راستوں کا ذکر کرتے ہوئے ہوئے کہا کہ وہ ایران کو مکمل طور پر ختم کر سکتے ہیں، اُسے معاشی طور پر گلنے سڑنے کے لیے چھوڑ سکتے ہیں یا پھر کسی حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے مذاکرات بھی کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مستقبل قریب میں بہت بڑی چیزیں ہونے والی ہیں تاہم انہوں نے ان اقدامات کی مزید تفصیلات بیان نہیں کیں۔صدر ٹرمپ نے ان آپشنز کا تذکرہ کرنے کے بعد سوالیہ انداز میں کہا ’اگر میں پوری قوم کو تباہ کر دوں تو؟‘ اور ساتھ ہی کہا کہ ایران کو اپنے طرزِ عمل میں بہتری لانی چاہیے۔فاکس نیوز کو انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے ایرانی ہم منصب سے ملاقات کے امکان کو بھی مسترد نہیں کیا۔
اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس کا اعلیٰ سطح سیشن ’ہائی لیول جنرل ڈیبیٹ‘ 22 ستمبر سے 26 اور پھر 28 ستمبر کو نیویارک میں ہونے جارہا ہے، جس میں ایران سمیت کئی ممالک کے سربراہانِ مملکت کی آمد اور خطاب متوقع ہے۔
جب صدر ٹرمپ سے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ ’میں غالباً اس کے لیے تیار ہوں گا۔‘مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ حوثی گروپ نے امریکی افواج پر حملے نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن یمن کے حوثی باغیوں کے حملوں کے بعد سعودی عرب کے ساتھ بھی مسلسل رابطے میں ہے۔
ٹرمپ نے جمعرات کے روز ایگزیوس کو دیے گئے انٹرویو میں بھی کہا تھا کہ وہ ایران کو تباہ کرنے یا نہ کرنے سے متعلق اہم فیصلے کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں۔
ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ان کی منگل کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس کے موقع پر 6 خلیجی ممالک کے رہنماؤں سے ملاقات طے ہے۔ ان ممالک میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین، کویت اور عمان شامل ہیں۔ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ اقوام متحدہ میں خلیجی رہنماؤں سے ملاقات کے دوران ایران جنگ کے حوالے سے ان کی رائے جاننا چاہتے ہیں۔