تازہ ترین

پاکستان کرکٹ ٹیم کی انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں مسلسل ناکامیوں کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ میں بڑا انتظامی بحران پیدا ہونے اور آدھی سے زیادہ ٹیم کے تبدیل ہونے کے بعد چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کا کہنا ہے کہ جیسے بھی حالات ہیں یہی ٹیم پرفارم کرے گی۔

لارڈز ٹیسٹ میں انگلینڈ کے ہاتھوں 194 رنز سے شکست اور سیریز میں نا قابلِ تلافی خسارے کے بعد پی سی بی نے ہنگامی بنیادوں پر فیصلے کرتے ہوئے سات اہم کھلاڑیوں بشمول محمد رضوان اور امام الحق کو اسکواڈ سے فارغ کر کے سات نئے کھلاڑیوں کو ٹیم میں شامل کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ٹیسٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ سرفراز احمد اور بولنگ کوچ عمر گل کو بھی عہدوں سے ہٹا دیا گیا ہے اور ان کی جگہ وائٹ بال کوچ مائیک ہیسن اور ایشلے نوفکے کو ذمہ داریاں سونپ دی گئی ہیں۔معاملات اس وقت شدت اختیار کر گئے جب پی سی بی نے چار رکنی سلیکشن کمیٹی کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے مایوس کن کارکردگی دکھانے والے کھلاڑیوں کی سلیکشن پر چوبیس گھنٹوں کے اندر تحریری جواب طلب کر لیا۔

بورڈ کے اس اقدام کے بعد سلیکشن کمیٹی کے رکن اور سابق کپتان مصباح الحق نے مبینہ طور پر مشاورت نہ کیے جانے پر اپنے عہدے سے استعفا دے دیا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے ڈائریکٹر اور سلیکشن کمیٹی کے رکن عاقب جاوید نے ناکامی کا ذمہ دار کپتان اور کوچ کو ٹھہراتے ہوئے کہا کہ دورے کے دوران مطلوبہ ٹیم کمبی نیشن حاصل نہیں ہو رہا تھا اور جب کپتان اور کوچ فیصلے نہ کر سکیں تو بورڈ کو سخت ایکشن لینا پڑتا ہے۔

اس تمام تر کشیدگی اور ہنگامہ آرائی کے باوجود لندن میں پاکستانی ہائی کمشنر کی جانب سے دی گئی ایک تقریب کے دوران چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے قومی کھلاڑیوں کا حوصلہ بڑھایا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مجھے اپنے لڑکوں پر پورا اعتماد ہے، اور اگر خود اعتمادی قائم رہے تو بڑے سے بڑے امتحان میں بھی کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے، اور جیسے بھی حالات ہوں یہی ٹیم آگے پرفارم کرے گی۔

 

 

Leave A Comment

Advertisement