پاکستان کرکٹ کے فروغ میں کردار ادا کرنا چاہتا ہوں، ہاتھ پیر نہ باندھے جائیں: یونس خان
سابق ٹیسٹ کپتان اور اپنے دور کے عظیم بیٹر یونس خان نے کہا ہے کہ مجھے طاقت درکار نہیں ہے، میں صرف پاکستان کرکٹ کے فروغ اور استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہتا ہوں، چاہتا ہوں جو بھی ذمہ داری ادا کروں، میرے ہاتھ پیر نہ باندھے جائیں ۔ ان خیالات کا اظہار یونس خان اکیڈمی کی افتتاحی تقریب کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ یونس خان کا کہنا تھا کہ میں کرکٹ کے حوالے سے اپنی خدمات انجام دے کر ملک اور قوم کا نام بلند کرنا چاہتا ہوں،کوشش ہے کہ پاکستان کرکٹ میں اعلیٰ مقام حاصل کریں۔ یہ کہنا درست نہیں ہے کہ میں پاور چاہتا ہوں، دراصل میں ایسا کردار چاہتا ہوں جس میں مجھے آزادانہ ماحول میں کام کرنے کی اجازت ہو اور ہاتھ پاؤں نہ باندھے جائیں،میں ایسی ٹیم تشکیل دوں جو خود مختار انداز میں کرکٹ کے فروغ اور تقویت کے لیے اقدامات کرے۔
بنیادی طور پر میرا تعلق صوبہ خیبر پختونخوا سے ہے لیکن میں نے تمام وقت کراچی میں گزارا ہے اور میرا تعلق ملیر کے علاقے سے رہا، میں نے کرکٹ سیکھنے کے لیے بسوں کی چھتوں پر سفر بھی کیا، ابتدائی دور میں سابق ٹیسٹ کپتان راشد لطیف نے بے لوث انداز میں رہنمائی اور سرپرستی کی،ان کی بھرپور محنت اور مدد کی بدولت آج میں اس مقام پر پہنچا ہوں۔ میں نے کبھی بھی جوڑ توڑ کی بات نہیں کی لیکن سچ اور حق کے لیے آواز ضرور بلند کی ہے۔ یونس خان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جس جس کو جہاں جہاں موقع ملے وہ کراچی کی مدد کرے اور اس شہر کو دوام بخشے، میں بھی کراچی میں چھپے ٹیلنٹ کو سامنے لانا چاہتا ہوں جو کرکٹ کے ذریعے آگے چل کر پاکستان کی خدمت کریں۔