جبرِ قلم اور بقائے آدم، زوالِ فکر سے احیاءِ بصیرت تک کا سفر
کے آگے سرنگوں ہو جاتی ہیں، تو دنیاوی جاہ و جلال، اقتدار کی ہوس اور مادی توہمات ہیچ نظر آنے لگتے ہیں۔ بوعلی سینا کی حیات اور ان کے سوزِ دروں کا یہی وہ باب ہے جو ہمیں دعوتِ فکرمندی دیتا ہے کہ جب اس مایہ ناز طبیب اور فلسفی سے پوچھا گیا کہ آپ کے دن کیسے گزر رہے ہیں، تو وہ بے ساختہ رو پڑے اور فرمایا کہ گناہگار اور خطکار ہونے کے باوجود مجھ پر ربِ کائنات کی رحمتیں اس فراوانی اور کثرت سے برس رہی ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے اور سمجھ نہیں آتا کہ اس کی بے پناہ نعمتوں پر شکر ادا کروں یا میرے چھپائے ہوئے عیبوں کی اس پردہ پوشی کا جو وہ مسلسل کر رہا ہے۔ یہ معرفتِ نفس کا وہ رفعت بخش مقام ہے جہاں انسان کمالِ علم، مرتبے اور شہرت کی بلندیوں پر بیٹھ کر بھی اپنے آپ کو کٹہرے میں کھڑا پاتا ہے اور اپنی ہر سانس کو خالقِ ذوالجلال کی امانت سمجھ کر حیاء اور شرمندگی کی چادر میں لپیٹ لیتا ہے۔اس کے برعکس جب نگاہیں پلٹ کر اس زمینی واقعیت، اجتماعی معاشرتی رویوں اور سیاسی جبر کے تاریک ایوانوں پر پڑتی ہیں تو منظر یکسر تبدیل ہو جاتا ہے، جہاں استبدادی قوتیں، آمرانہ ہتھکنڈے اور ظالم حکمران عوام کے بنیادی حقوق اور ان کی فکری و عملی آزادی کے پر بڑی بے رحمی سے نوچ کر انہیں ننگا، لاچار اور بے بس کر دیتے ہیں۔ تاریخ اور سیاست کے اس جبر کو سمجھنے کے لیے وہ تمثیل ہمیشہ زندہ رہتی ہے جہاں مطلق العنان حکمران اپنے اقتدار کو دوام بخشنے کے لیے معاشرے کو مفلوک الحال بناتا ہے اور پھر جب عوام بھوک اور افلاس سے نڈھال ہو کر تڑپتے ہیں تو وہ انہیں روٹی کے چند ٹکڑے اور گندم کے دانے پھینک کر اپنے احسان تلے دبا لیتا ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے ایک زخمی اور بے بس مرغا اپنے سارے پر کٹ جانے اور خون میں لت پت ہونے کے باوجود صرف اس امید پر اسی ظالم کے پیچھے پیچھے بھاگتا چلا جاتا ہے کہ شاید اسے زمین پر بکھرے ہوئے چند دانے چگنے کو مل جائیں گے۔ یہ آمریت کا وہ مکروہ، آزمودہ اور ہولناک فارمولا ہے جو انسان کی غیرت، اور خودداری کو خریدنے کے لیے غربت اور مجبوری کو بطور ہتھیار استعمال کرتا ہے اور تاریخ کے ستم کو بھلا کر عوام کو وقتی ریلیف اور خیرات کے فریب میں مبتلا کر دیتا ہے۔مگر یہاں ایک انتہائی دل چیر دینے والا اور گہرا فکری سوال جنم لیتا ہے کہ کیا ایک باشعور انسان اور بے حس مرغے میں کوئی جوہری فرق باقی رہتا ہے؟ اگر ہم محض چند کلو آٹے، روٹی کے لقمے، یا الیکشن سے پہلے کی چند روزہ سبسڈی اور عارضی ریلیف کے بدلے اپنے پانچ سالہ حقوق، عزتِ نفس اور آزادیِ اظہار کا سودا کر لیتے ہیں، تو پھر ہم میں اور اس مرغے میں کوئی امتیاز باقی نہیں رہتا جسے سوائے پیٹ کی آگ بجھانے کے اور کچھ نہیں سوجھتا۔ اللہ تعالی نے قرآنِ حکیم میں بنی آدم کو اشرف المخلوقات کا اعزاز بخشا ہے اور اسے عقل، شعور، تدبر اور غلط کے مقابلے میں کھل کر 'لا' کہنے کی طاقت عطا کی ہے تاکہ وہ کسی بھی فرعون یا آمر کے سامنے جھکنے کی بجائے صرف اپنے خالق کے حضور دست بہ دعا ہو اور ظالم کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر حساب مانگے۔مگر المیہ یہ ہے کہ جب معاشرہ خود اپنے ہاتھوں اپنے پر نوچوانے پر رضامند ہو جاتا ہے اور صرف شام کی روٹی کی خاطر اپنی نسلوں کا مستقبل گروی رکھ دیتا ہے، تو وہ اپنی فطری تکریم سے خود دستبردار ہو جاتا ہے۔ حکیم الامت علامہ اقبال نے اسی زوالِ فکر اور اجتماعی غفلت پر نوحہ کناں ہو کر کہا تھا کہ خدا نے کبھی اس قوم کی حالت نہیں بدلی جس کو خود اپنی حالت کے بدلنے کا ذرا بھی احساس نہ ہو، اور غلامی کی یہ کٹھن زنجیریں تبھی پگھلتی ہیں جب دلوں میں مادی خوف سے آزاد ہو کر ذوقِ یقین بیدار ہوتا ہے۔ یہ پختہ یقین اس حقیقت پر مبنی ہے کہ رزق کسی ظالم حکمران، سٹالن یا وقت کے کسی فرعون کے ہاتھ میں نہیں بلکہ اس ذات کے قبضے میں ہے جو پتھر میں کیڑے کو بھی رزق پہنچاتی ہے۔لہذا، اب وقت آ چکا ہے کہ دانے کے خوف کو دل اور دماغ سے مکمل طور پر نکال کر باہر کیا جائے، ان پروں کا حساب کتاب چھوڑ کر نئے پروں کی نشوونما کے لیے فکری اور عملی جدوجہد کا آغاز کیا جائے، اور اجتماعی غیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے سوال پوچھنے کی جرات پیدا کی جائے کہ ہمارے حقوق کس نے اور کیوں غصب کیے۔ مرغا بننا تو شاید کسی خاص دور کے حالات کا جبر ہو سکتا ہے، لیکن مرغا بنے رہنا اور ظلم کو اپنی تقدیر مان لینا انسان کا اپنا ذاتی انتخاب ہوتا ہے۔ ہم بحیثیتِ انسان اس زمین پر تبھی جینے کے حقیقی حقدار ٹھہریں گے جب ہم مادی مفادات، خیرات اور ڈر کی اس زنجیر کو توڑ کر دانے کے بجائے حریت، عدل اور پرواز کے آسمان کا مطالبہ کریں گے۔